وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے تھے ہمیں
چراغ جلتے ہوۓ چھوڑنے پڑے تھے ہمیں

ہمیں سمجھتا ہے کوئی، کوئی تو ہے اپنا
اور ایسے اور بھی کتنے ہی واہمے تھے ہمیں

یہ تُو نے کیسے سفر کی طرف دھکیل دیا
جو جانتے بھی نہیں تھے وہ رو رہے تھے ہمیں

تمہارا ہاتھ جھٹکنا تو خیر بنتا ہے
بہت سے لوگ نمازوں میں مانگتے تھے ہمیں

بس ایک بار ارادہ کیا چلے جائیں
بہت سے درد گریباں سے کھینچتے تھے ہمیں

کسی کا صرف یہ کہنا کہ یار میں ہوں ناں
اس ایک بات سے کتنے ہی حوصلے تھے ہمیں

یہ خودکشی کوئی عجلت کا فیصلہ نہیں تھا
بس اپنے آپ سے میثم بہت گلے تھے ہمیں

میثم علی آغا

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے