اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
آپ مت پیجیے اجی سگریٹ
اس کو ہچکی سی ایک دم آئی
میرے ہونٹوں سے گر گئی سگریٹ
کتنے چنچل سے لوگ یاد آئے
بعد مدت کے میں نے پی سگریٹ
یاد رکھنا اگر نہ آئے تم
ایک کے بعد دوسری سگریٹ
کیا بھروسہ ہے اس فریبی کا
چھوڑ جائے گا جب بجھی سگریٹ
کش لگاتے رہو یوںہی شہ دلؔ
بجھنے والی ہے زیست کی سگریٹ
شاہ دل شمس