اُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر حملہ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

اردو پاکستان کی پہچان، ہماری تہذیب اور قومی وحدت کی سب سے بڑی علامت ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب نئی مملکت کے لیے زبان کے انتخاب کا مرحلہ آیا، بانیانِ پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اردو کسی ایک صوبے یا علاقے کی زبان نہیں تھی بلکہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث تھی۔ یہ زبان تحریکِ پاکستان کے قافلے کی آواز بنی اور خوابِ آزادی کو تعبیر دینے والی قوت ثابت ہوئی۔ اردو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ، قربانیوں اور اسلامی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

افسوس یہ ہے کہ اردو کو آئینی اور قانونی سطح پر قومی زبان تسلیم کرنے کے باوجود عملی طور پر کبھی نافذ نہ کیا گیا۔ ابتدا ہی سے چند حلقوں نے صوبائی تعصب کو ہوا دی اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ اردو ان پر مسلط کی جا رہی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چونکہ اردو کسی ایک صوبے کی زبان نہیں تھی، یہ سب کے لیے مشترکہ زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ اردو کی مخالفت دراصل پاکستان کی نظریاتی بنیاد پر ضرب تھی۔ صوبائی زبانوں کے تحفظ کی ضرورت اپنی جگہ درست ہے، مگر ان زبانوں کی آڑ میں اردو کے خلاف شور مچانا قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے مترادف تھا۔ یہی رویہ بعد میں لسانی سیاست اور صوبائی تقسیم کا سبب بنا۔

1973 کے آئین میں شق 251 کے تحت اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ پندرہ برس کے اندر اسے سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ مگر آج پچاس برس گزرنے کے باوجود یہ وعدہ صرف کاغذوں کی حد تک رہ گیا۔ 2015 میں سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو حکم دیا کہ تمام سرکاری اداروں میں اردو رائج کی جائے، مگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئین، عدالت اور عوام سب اردو کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟ جواب صاف ہے: انگریزی پرست طبقہ، بیوروکریسی اور حکمران اشرافیہ۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ اگر اردو مکمل طور پر رائج ہو گئی تو ان کی انگریزی پرستی اور اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ انگریزی کے ذریعے وہ عوام کو کمتر اور خود کو برتر ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو دشمنی پر مبنی رویہ دہائیوں سے جاری ہے۔

دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی زبان کو ترقی اور علم کا ذریعہ بنایا۔ چین نے چینی زبان کے ذریعے سائنس و ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا، جاپان نے جاپانی زبان کو صنعت و تحقیق کی بنیاد بنایا، اور جرمنی و فرانس نے اپنی زبانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کا ذریعہ بنایا۔ ہم نے اپنی زبان کو پسِ پشت ڈال کر انگریزی غلامی کو خوشی خوشی قبول کیا، جو قومی غیرت اور خودداری کے منافی ہے۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صوبائی زبانیں ہماری ثقافتی شناخت کا لازمی حصہ ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو اور دیگر زبانیں پاکستان کے ادبی خزانے کو مالا مال کرتی ہیں، لیکن ان کی اہمیت اردو کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ اردو وہ رشتہ ہے جو ان سب زبانوں کے بولنے والوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب ایک سندھی کسی بلوچی سے ملتا ہے یا ایک پنجابی کسی پشتون سے بات کرتا ہے تو اردو ہی ذریعۂ اظہار بنتی ہے۔ اگر اردو نہ ہو تو یہ رشتہ ٹوٹ جائے اور قوم لسانی بنیادوں پر بکھرنے لگے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اردو کو محض آئینی اعلان نہیں بلکہ عملی حقیقت بنایا جائے۔ اس کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں: تعلیم کے تمام درجوں میں اردو کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے اور سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ کیا جائے، عدالتوں، دفاتر اور سرکاری نوٹیفکیشنز کو اردو میں جاری کیا جائے، میڈیا، ٹی وی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اردو کے استعمال کو فروغ دیا جائے، جدید علوم کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں، اور اردو کے ساتھ صوبائی زبانوں کو بھی نصاب اور میڈیا میں جگہ دی جائے تاکہ کسی کو محرومی کا احساس نہ ہو۔

اردو عوام کی زبان ہے۔ مزدور، کسان، طالب علم، استاد اور تاجر سب اسی میں بات کرتے اور سمجھتے ہیں۔ یہ زبان ادب، ذرائع ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ رائج ہے۔ یہی اردو ہماری قومی روح کی آواز ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اردو کو اس کا جائز مقام دلایا جائے۔ یہ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ قومی بقا کی ضمانت ہے۔ اردو کو کمزور کرنا دراصل پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ قومی یکجہتی، معاشی ترقی اور فکری آزادی سب اردو کے نفاذ سے جڑی ہیں۔ صوبائی زبانوں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ان کی آڑ میں اردو کی مخالفت دراصل پاکستان کی وحدت پر حملہ ہے۔ اردو ہماری پہچان، ہماری تاریخ اور ہمارا مستقبل ہے۔ اردو کے بغیر پاکستان کبھی مکمل اور مضبوط نہیں ہو سکتا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔