تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں
وہ کبھی مجھ سے دور تھا ہی نہیں
اس لیے بزم سے پلٹ آئے
حاضری میں حضور تھا ہی نہیں
یار کی دید ہو گئی مجھ کو
سامنے کوہِ طُور تھا ہی نہیں
بانٹتی پھر رہی ہیں بینائی
جن نگاہوں میں نُور تھا ہی نہیں
اُس کی غیرت جگا کے کیا ملتا
فطرتاً جو غیور تھا ہی نہیں
یوں ہی مصلوب کر دیا اُس کو
جس کا کوئی قصور تھا ہی نہیں
کاش دنیا کہے، روبینہ میں
عاجزی تھی، غرور تھا ہی نہیں
روبینہ شاد