تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے

شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے

دل ترے قرب میں رہتے ہوئے پیاسا کیوں ہے

جب مری پیاس کا حق ہی نہیں تجھ پر کوئی

تیری برسات کے لہجے میں دلاسا کیوں ہے

میں اُسے روکنا چاہوں تو نفس رُک جائے

سوچتا ہوں کہ مزاج اُس کا ہوا سا کیوں ہے

وہ محبت میں شریک اپنا نہیں ٹھہراتا

وہ خدا تو نہیں ہے پھر بھی خدا سا کیوں ہے

شاذ بینائی مری چھین کے جو لے گیا تھا

پوچھتا ہے کہ مرے ہاتھ میں کاسہ کیوں ہے

شجاع شاذ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔