تشنہ لبی زمین کی پل میں بجھا گئی

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

تشنہ لبی زمین کی پل میں بجھا گئی
وہ شوخ پانیوں پہ جب ایڑی گھما گئی

ہجرت سے پہلے آخری ہچکی وہ پیڑ کی
بوڑھے کئ پرندوں کی وحشت بڑھا گئی

سورج کی روشنی سے الجھتی ہوئی دراڑ
دیوار کے بھروسے کی نیندیں اڑا گئی

خاموشیوں کا ربط رہا ساتھ ہمسفر
مجھ سے بچھڑ کے دور جہاں تک صدا گئی

بازار میں جب آئی پھٹے پیرہن کے ساتھ
خوش رنگ ملبوسات کی قیمت گرا گئی

آشفتگی کی لہر سے بیزار زندگی
شہرت کے ساتھ سانس کے طعنے کما گئی

ارشاد پھول سچ گئے گلدان میں کہیں
تتلی نے زہر پی لیا اور صبر کھا گئی

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔