ترے دم سے دنیا منور خدایا
اے رازق اے مالک مصور خدایا
خیال و گماں سے ورا ذات تیری
تو ہی ہے بعید از تصور خدایا
اگرچہ بہت نعمتیں تو نے دی ہیں
مگر مانگتا ہوں مکرر خدایا
نہیں لکھنا تعریف ممکن کسی سے
سیاہی بنیں گر سمندر خدایا
سبھی جانتا ہے تو اعلم ہے مولا
چھپا ہو دلوں کے جو اندر خدایا
ترا ذکر کرتے سبھی اولیا ہیں
ترا نام لیتے قلندر خدایا
تو چاہے گداگر بنا دے کسی کو
جسے چاہے کر دے سکندر خدایا
محمد رضا نقشبندی