توکل کیا ھے؟

ایک اردو تحریر از صنم فاروق

طوفاں میں پھسے ھوۓ انسان کو جب نظر آۓ کہ وہ بری طرح پھس گیا ھے۔لیکن اسے اللہ پر امید ھو کہ وہ اسے محفوظ رکھے گا۔اور ٹھیک کچھ ہی دیر کی آزمائش کے بعد وہاں کوی مدد کا امکان بن جاۓ ۔یہ اس انسان کا اللہ پر توکل ھے۔جو اس کو مضبوط بنا کر طوفاں سے مقابلے کی ھمت دیتا ھے۔
اور اللہ تو خود فرماتا ھے جیسا گماں رکھو گے ویسا ہی عطا ھو گا۔
بہت سی چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ھوتی۔لیکن اک امید ہمیں اس بات پر قائم رکھتی ھے کہ اللہ سب عطا فرما دے گا۔یہ توکل ھے۔اور انسان کا توکل ہی اس کے ایمان کی پہچان ھے۔
اللہ آزما رھا ھے۔مگر عطا بھی کر رھا ہے۔کچھ نہ دے کر بہترین عطا کرتا ھے۔کچھ چھین کر آزما رہاھے۔کچھ دے کر ڈھیل دے رہا ھے۔
تم کیا کر رہے ھو؟
کیا نماز ادا کر رھے ھوں۔کیا فرض پورے کر رھے ھو۔کیا۔دعا میں عافیت طلب کر رہے ھو۔یہاں تمہارے توکل کا امتخان ھے۔تمہارے کامل ہونے کا امتخان۔
اللہ بھی اپنے بندوں کا آزما رہا ھے۔ میرے بندے مجھ پر کتنا یقین رکھتے ہیں۔ جب عطا کرتا ھو تو شکر ادا کرتے ہیں یا مجھے بھول جاتے ہیں۔
جب نہیں دیتا شکوہ کرتے ہیں یا صبر و شکر سے ذکر کرتے ہیں۔
اتنے ایمان کے توکل کو اتنا مضبوط رکھیں کہ خالات جیسے بھی ھوں آپ کا اللہ سے رشتہ متاثر نہ ھو بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ مزید مضبوط ھو جاۓ۔
کامل ایمان ہی عبادت کا حسن و مجموعہ پیکر
ھے۔ ورنہ جب اللہ پر توکل ہی نہ ھو تو عبادت ذکر سب بےمعنی ھو جاتا ھے۔
دعا ھے اللہ ھمیں ایمان کے ساتھ ایمان کا پختہ توکل نصیب کرے اور اپنی عافیت سے نوازے۔آمین

صنم فاروق حسین

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر