تاریکیوں میں راہ کا تارہ بنا رہے
وہ روشنی مثال ہمارا بنا رہے
طغیانیوں کے سامنے اب کتنی دیر تک
ان بستیوں کی ڈھال کنارہ بنا رہے
آنے سے تیرے شاخ بھی پھولوں سے بھر گئی
اے کاش عمر بھر یہ نظارہ بنا رہے
بادل کے کینوس پہ یوں سنگِ ہوا نہ پھینک
کچھ اور دیر چہرہ تمہارا بنا رہے
ابھریں گے اور نقش کئی چاک پر فگار
مشاق انگلیوں کا اشارہ بنا رہے
سلیم فگار