تاریکی

ایک افسانچہ از منزہ انور گوئیندی

اُس نے نظریں اُٹھا کر اوپر دیکھا تو سیاہی اور سفیدی میں ازلی کشمکش جاری تھی ۔ تاریکی آہستہ آہستہ اپنے مرکز کی طرف سکڑنے لگی ۔ بالکل وقت کی رفتار کی طرح غیر محسوس طریقے سے ۔۔ اس نے سوچا کیا اندھیرا اجالے کو جنم دیتا ہے !!
نہیں اندھیرا اجالے کو جنم نہیں دیتا بلکہ اجالا ہمیشہ ہمیشہ کسی ننھے خول میں بند رہتا ہے وقت کا ہاتھ جب اس خول کو توڑتا ہے تو روشنی کی کوند تاریکی کو ختم کر دیتی ہے ۔ اسے دور سیاہی کا چھوٹا سا جزیرہ اب بھی سکڑتا نظر آ رہا تھا ۔ حتاکہ وہ ننھے سے قطرے میں تبدیل ہو گیا ۔ اسے تاریکی سے نفرت تھی اور تمنا یہ رہی کہ سیاہی کے ننھے سے نقطے کو بھی مٹا دے ۔ لیکن جانے کیوں اس آخری نقطے کو مٹتے دیکھ کر اسکے دل میں رحم اُمنڈنے لگا ،،، سیاہی کا پورا وجود ختم ہو رہا تھا اس نقطے کی بنیاد کھوکھلی ہوتی جا رہی تھی حتاکہ وہ تارے کی طرح آسمان سے ٹوٹ کر زمین کی طرف گرنے لگا ۔ اس نے اطمینان سے طویل سانس لی لیکن نیچے گرتے ہوئے اس سیاہ نقطے کا تعاقب کرتی ہوئی اس کی نظریں زمین پر پہنچیں تو دیکھا کہ زمین پر حد نگاہ تک سیاہی کا اتھاہ سمندر پھیلا ہوا تھا ، نہ جانے صدیوں سے سیاہی کے نقطے ٹوٹ ٹوٹ کر اس میں گرتے رہے تھے ،، کالا نقطہ سمندر میں جا گرا اور سمندر کا رنگ کچھ اور کالا ھو گیا ۔

منزہ انور گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا