اُس نے نظریں اُٹھا کر اوپر دیکھا تو سیاہی اور سفیدی میں ازلی کشمکش جاری تھی ۔ تاریکی آہستہ آہستہ اپنے مرکز کی طرف سکڑنے لگی ۔ بالکل وقت کی رفتار کی طرح غیر محسوس طریقے سے ۔۔ اس نے سوچا کیا اندھیرا اجالے کو جنم دیتا ہے !!
نہیں اندھیرا اجالے کو جنم نہیں دیتا بلکہ اجالا ہمیشہ ہمیشہ کسی ننھے خول میں بند رہتا ہے وقت کا ہاتھ جب اس خول کو توڑتا ہے تو روشنی کی کوند تاریکی کو ختم کر دیتی ہے ۔ اسے دور سیاہی کا چھوٹا سا جزیرہ اب بھی سکڑتا نظر آ رہا تھا ۔ حتاکہ وہ ننھے سے قطرے میں تبدیل ہو گیا ۔ اسے تاریکی سے نفرت تھی اور تمنا یہ رہی کہ سیاہی کے ننھے سے نقطے کو بھی مٹا دے ۔ لیکن جانے کیوں اس آخری نقطے کو مٹتے دیکھ کر اسکے دل میں رحم اُمنڈنے لگا ،،، سیاہی کا پورا وجود ختم ہو رہا تھا اس نقطے کی بنیاد کھوکھلی ہوتی جا رہی تھی حتاکہ وہ تارے کی طرح آسمان سے ٹوٹ کر زمین کی طرف گرنے لگا ۔ اس نے اطمینان سے طویل سانس لی لیکن نیچے گرتے ہوئے اس سیاہ نقطے کا تعاقب کرتی ہوئی اس کی نظریں زمین پر پہنچیں تو دیکھا کہ زمین پر حد نگاہ تک سیاہی کا اتھاہ سمندر پھیلا ہوا تھا ، نہ جانے صدیوں سے سیاہی کے نقطے ٹوٹ ٹوٹ کر اس میں گرتے رہے تھے ،، کالا نقطہ سمندر میں جا گرا اور سمندر کا رنگ کچھ اور کالا ھو گیا ۔
منزہ انور گوئیندی