تمہیں کس نے کہا تھا کہ جدائی سے مسائل ختم ہوتے ہیں
وہی سادہ مسائل
جو ہمیں اک دوسرے کو دیکھنے سے بھی سدا قاصر ہی رکھتے ہیں
انہی سادہ مسائل نے مجھے معنی کی الجھن میں کئی راتوں سے جکڑا ہے
انہی اسباب کو لے کر میرے احباب بھی مجھ سے فقط دوری ہی چاہتے ہیں
یہ کس نے کہہ دیا تم سے
میرا یوں زیست میں آنا تمہیں نقصان ہی دے گا
چلو جو ٹھان رکھا ہے وہی میں مان لیتا ہوں
تمہاری بے رخی کو میں محبت جان لیتا ہوں
نہیں اب اور کچھ بھی تو نہیں کہنا
فقط بس یاد رکھنا تم
ہمارا یہ تعلق بھی تمہارے در کی چوکھٹ پر پڑی مردہ محبت ہی کے جیسا ہے
ایم اے دوشی