تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

موجودہ تعلیمی سال ملک کے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ یہ محض ایک سال کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی عکاسی ہے جو مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کو ہر بحران میں سب سے پہلے قربان کر دیا جاتا ہے اور اس کے اثرات برسوں بعد سامنے آتے ہیں۔ آج کے طالب علم کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور پالیسی ساز ہوں گے، مگر جب ان کی تعلیمی بنیاد ہی کمزور ہو تو معاشرے کی سمت درست کیسے رہ سکتی ہے۔

موجودہ تعلیمی سال میں تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال کے بیشتر دن تعطیلات کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے باعث طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تعلیمی سال میں اب تک 298 دن گزر چکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 116 دن ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ ہفتہ اور اتوار، شدید گرمی اور سردی کی تعطیلات، گزیٹڈ چھٹیاں، سیلاب، سکیورٹی خدشات اور غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث مجموعی طور پر 182 دن ضائع ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ نجی تعلیمی ادارے بھی اسی دائرے میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نجی ادارے کسی حد تک اضافی کلاسز یا آن لائن نظام کے ذریعے کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سرکاری نظام مکمل طور پر تعطیلات کے رحم و کرم پر نظر آتا ہے۔ نتیجتاً تعلیمی تفاوت بڑھتا جا رہا ہے اور طبقاتی خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوری اور فروری کے مہینوں میں مزید صرف 30 تعلیمی دن دستیاب ہوں گے، جس کے بعد مارچ میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہو جائے گا اور تدریسی عمل عملاً ختم ہو جائے گا۔ اس طرح رواں تعلیمی سال میں مجموعی طور پر صرف 146 دن ہی کلاسز ممکن ہو سکیں گی۔ تعلیمی ماہرین کی تحقیق کے مطابق مکمل نصاب پڑھانے کے لیے کم از کم 180 تدریسی دن ناگزیر ہوتے ہیں، جبکہ اگر امتحانات کو بھی شامل کر لیا جائے تو نصابی سرگرمیوں کے لیے 210 دن درکار ہوتے ہیں۔

اس واضح فرق کے باوجود ہر سال یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نصاب مکمل کرا لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دن ہی پورے نہ ہوں تو معیار کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اساتذہ کو مجبوراً تیز رفتاری سے اسباق نمٹانے پڑتے ہیں، ہوم ورک اور خود مطالعہ کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور کلاس روم میں سوال و جواب کی روایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو تعلیم کو زندہ رکھتے ہیں، مگر وقت کی کمی سب کچھ نگل لیتی ہے۔

طلبہ پر اس دباؤ کے نفسیاتی اثرات بھی کم نہیں۔ محدود وقت میں زیادہ نصاب، مسلسل امتحانی خوف اور غیر یقینی تعلیمی شیڈول ذہنی تناؤ کو جنم دیتا ہے۔ چھوٹے بچے جو سیکھنے کے عمل میں تسلسل کے محتاج ہوتے ہیں، بار بار تعلیمی وقفوں کے باعث توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اساتذہ بھی اسی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ نتائج کی ذمہ داری آخرکار انہی کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے۔

دوسری جانب، غیر معمولی حالات جیسے سیلاب یا سکیورٹی خدشات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کے متبادل انتظامات کبھی سنجیدگی سے سوچے گئے۔ دنیا کے کئی ممالک نے مشکل حالات میں بھی متبادل تدریسی نظام اپنائے، آن لائن تعلیم کو مضبوط کیا اور تعلیمی دنوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھا۔ ہمارے ہاں مگر ہر بحران کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور نقصان کا ازالہ اگلے سال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

والدین کی پریشانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف وہ بچوں کی تعلیم کے لیے فیسیں ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے بچے مطلوبہ تعلیمی وقت سے محروم رہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو تعلیمی نظام کی ناکامی کا خاموش اعتراف بھی ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی میں تعلیم کو ترجیح ہی حاصل نہیں۔ تعلیمی کیلنڈر بار بار بدلتا ہے، تعطیلات کا اعلان آخری لمحے پر ہوتا ہے اور کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اس کا اثر نصاب اور سیکھنے کے معیار پر کیا پڑے گا۔ اگر اسی روش کو جاری رکھا گیا تو تعلیمی سال محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔ تعطیلات کے نظام کو متوازن بنایا جائے، غیر ضروری چھٹیوں میں کمی کی جائے اور ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے متبادل تدریسی منصوبہ تیار ہو۔ تعلیمی دنوں کی کمی کو اضافی کلاسز یا توسیع شدہ تعلیمی سال کے ذریعے پورا کیا جائے، تاکہ طلبہ کو ان کا حق مل سکے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو ترقی کے خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو وقتی سہولت نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہو گا۔ بصورت دیگر ہر سال یہی سوال اٹھتا رہے گا اور ہر سال تعلیمی سال اسی طرح تعطیلات کی نذر ہوتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔