تعلیم روزگار کے لیے نہیں ہے۔ تعلیم تو شعور اور بیداری کے لیے ہے۔ مگر یہ احساس آسانی سے نہیں آتا۔ برسوں کے تجربے، مشاہدے اور دھکّوں کے بعد جب انسان نظام کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو پہچانتا ہے، تب جا کر سمجھ میں آتا ہے کہ تعلیم کا اصل کام انسان کو سوچنے کے قابل بنانا ہے، نہ کہ محض نوکری کے قابل۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں بچہ بولنا شروع کرے تو والدین اس کے کان میں یہی جملہ ڈالتے ہیں: "بیٹا محنت سے پڑھو تاکہ بڑی نوکری ملے، اچھی زندگی گزرے۔” کسی نے کبھی یہ نہیں کہا
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے۔ تعلیم جب روزگار کے تابع ہو جائے تو علم کی روح مر جاتی ہے۔ طالب علم نصاب کو یاد تو کر لیتا ہے مگر زندگی کو نہیں سمجھتا۔ وہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے مگر بصیرت سے خالی رہتا ہے۔ اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں مگر اس کا ذہن اندھا ہوتا ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کبھی روزگار کا ذریعہ نہیں تھا۔ بغداد، قرطبہ اور سمرقند کے مدارس میں تعلیم کا مقصد انسان سازی تھا۔ وہاں سوال پوچھنے کو عبادت سمجھا جاتا تھا، سوچنے کو علم کا درجہ دیا جاتا تھا۔ علم وہ روشنی تھی جو ذہنوں کو آزاد کرتی تھی۔ مگر پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ برصغیر پر نوآبادیاتی دور آیا، اور انگریزوں نے تعلیم کو ایک نیا مفہوم دیا ۔ ایسا مفہوم جس نے قوموں کے ذہن غلام بنا دیے۔
لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم نے ایک مخصوص ذہن تیار کیا: ایسا ذہن جو سوچتا نہیں، صرف حکم مانتا ہے۔ ایسے لوگ جو سوال نہیں کرتے، بس نوکری کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ یہی سوچ ہمارے اندر بس گئی۔ آج بھی ہمارا تعلیمی نظام اسی میکالے کے سانچے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم ذہن نہیں بناتے، کلرک بناتے ہیں۔ ہم تخلیق نہیں کرتے، نقل کرتے ہیں۔
یہ نظام محض اتفاق سے نہیں بنا۔ اسے ایسے ہی رہنے دیا گیا تاکہ شعور پیدا نہ ہو۔ کیونکہ شعور بیدار ہو جائے تو سوال اٹھتے ہیں، اور سوال اٹھیں تو طاقتوروں کی کرسی ہلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نصاب میں تاریخ کو مسخ کر کے پڑھایا جاتا ہے، فلسفہ غائب ہے، تنقیدی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں، اور طلبہ کو سوال کرنے کے بجائے رٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اساتذہ پر بھی ظلم ہوا۔ وہ اس نظام کا سب سے مظلوم طبقہ ہیں۔ وہ جو علم کے امین تھے، خود غمِ روزگار کے اسیر بن گئے۔ ایک استاد جسے قوم ساز ہونا چاہیے تھا، وہ اپنے بچوں کے اسکول کی فیس جمع کرنے کے لیے پریشان ہے۔ جب ایک معلم خود معاشی مجبوری میں جکڑا ہو تو وہ اپنے شاگرد کو بلند سوچ کیسے دے سکتا ہے؟
اس کا قصور نہیں۔ اس کے حالات ایسے رکھے گئے کہ وہ سوچنے سے پہلے زندہ رہنے کی فکر کرے۔
اساتذہ کے ساتھ ساتھ نصاب کی حالت بھی مایوس کن ہے۔ نصاب کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ ذہن بند رہے، سوچ نہ پیدا ہو۔ ہمارے طلبہ کو صرف یاد کروایا جاتا ہے، سمجھایا نہیں جاتا۔ ہر سوال کا ایک "درست جواب” ہوتا ہے گویا دنیا کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ علم تو اسی وقت جنم لیتا ہے جب انسان "غلط” جواب دینے سے نہیں ڈرتا۔
اسی نظام نے ہمارے ذہنوں سے سوال کرنے کی جرات چھین لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نوجوان تھوڑا سا مختلف سوچتا ہے تو اسے باغی یا بدتمیز کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی وہ ذہن ہیں جو معاشرے کو آگے لے کر جاتے ہیں۔
تعلیم کی یہ سطحی تعبیر نہ صرف شعور کو محدود کرتی ہے بلکہ اخلاقیات کو بھی کھا جاتی ہے۔ آج ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ تو بہت ہیں، مگر کردار والے کم۔ علم نے دماغ بھر دیے ہیں مگر دل خالی چھوڑ دیے ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ذات کو روشن کرنا تھا، مگر ہم نے اسے محض ذریعہ معاش بنا دیا۔
تعلیم اگر انسان کے کردار، انصاف، محبت اور ذمہ داری کا احساس نہ جگائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔ ایک پڑھے لکھے بے ضمیر شخص سے زیادہ خطرناک کوئی نہیں۔ جب علم کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹ جائے تو وہ طاقت بن جاتا ہے، روشنی نہیں۔
ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہمارا تعلیمی نظام بیمار ہے۔ یہ طلبہ کو سوچنے نہیں دیتا، صرف چلنے کا حکم دیتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی اصلاح درکار ہے جو تعلیم کو دوبارہ انسانیت سے جوڑ دے۔ ہمیں نصاب میں فلسفہ، سماجی علوم، اور اخلاقی تربیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔
اساتذہ کو محض تدریس نہیں، تربیت بھی دینی ہوگی۔ انہیں صرف نصاب نہیں بلکہ زندگی سکھانے والا بنانا ہوگا۔ انہیں مالی تحفظ دینا ہوگا تاکہ وہ فکری آزادی سے پڑھا سکیں۔
اسی طرح امتحانات کے نظام کو بھی بدلنا ہوگا۔ امتحان یادداشت کا نہیں، فہم کا ہونا چاہیے۔ طالب علم سے یہ پوچھا جائے کہ وہ مسئلہ سمجھتا ہے یا نہیں، نہ کہ وہ کتاب کے الفاظ دہرا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھائے تو آنے والی نسلیں بھی اسی اندھے راستے پر چلتی رہیں گی ۔ وہ راستہ جہاں علم تو ہے مگر شعور نہیں، ڈگری تو ہے مگر بصیرت نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو روزگار کی غلامی سے آزاد کریں۔ تعلیم کا اصل مقصد ذہنوں کو آزاد کرنا ہے۔ ایک ایسا ذہن جو سوال کر سکے، جو انصاف کے لیے کھڑا ہو، جو انسان کی قدر پہچانے۔
تعلیم وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو چیرتا ہے، مگر اگر اسے نوکری کے دفتروں میں قید کر دیا جائے تو وہ چراغ بجھ جاتا ہے۔ ہمیں اس چراغ کو دوبارہ روشن کرنا ہے۔
اور شاید تب ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہمیں آخرکار سمجھ آ گی
تعلیم روزگار کے لیے نہیں تھی، شعور کے لیے تھی۔
تعلیم نوکری نہیں دیتی، روشنی دیتی ہے۔
یوسف صدیقی