سوکھے ہوئے پھول اور یہ گلدان اٹھا کر

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

سوکھے ہوئے پھول اور یہ گلدان اٹھا کر
لایا ہوں کسی اور کا سامان اٹھا کر

ہونٹوں پہ میں اک لفظ بھی لانے سے گیا آج
آنکھوں میں کسی شخص کا احسان اٹھا کر

منصورِ زمانہ ہوں مجھے قید نہ کرنا
لیجاؤں گا ہمراہ یہ زندان اٹھا کر

ہجرت میں وہ عجلت تھی کہ اب یاد نہیں ہے
خود کو کہاں رکھا اسی دوران اٹھا کر

ہر سانس کی قیمت ہے چکانی پڑی مجھکو
زندہ ہوں میں اک عمر کا تاوان اٹھا کر

کیا بات گراں بار ہے یہ بھی نہیں کُھلتا
چلتی ہے یہ کیا بوجھ مری جان اٹھا کر

تخریب میں تعمیر کی صورت نہیں ارشاد
کیا فائدہ اس خاک میں طوفان اٹھا کر

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔