سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت

تحریر: منیب الرحمن عارفیؔ

ہم سب نے کبھی نہ کبھی یہ تجربہ ضرور کیا ہوگا کہ ہم صرف چند منٹ کے لیے سوشل میڈیا کھولتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے۔ ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ، ایک تبصرے سے دوسری بحث، اور پھر ایک نئی ویڈیو۔ آخر میں جب فون بند کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت تو گزر گیا، مگر ہاتھ میں کوئی خاص چیز نہیں آئی۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ رابطے کا ذریعہ بھی ہے، معلومات کا وسیلہ بھی اور اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم بھی۔ اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو اس کے بہت فائدے ہو سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب ہم ہر دکھائی دینے والی بات میں الجھنے لگتے ہیں، ہر بحث میں کود پڑتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ردعمل دینا اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایک موضوع اچانک ہر جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہر طرف اسی کی بات ہو رہی ہوتی ہے۔ لوگ اس پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں، بحثیں ہو رہی ہوتی ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اس گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔ مگر کبھی کبھی تھوڑا رک کر سوچیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اصل حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آ رہی تھی۔

انسانی ذہن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جو چیز وہ بار بار دیکھے یا سنے، اسے سچ کے قریب سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی خبر یا رائے مسلسل ہمارے سامنے آتی رہے تو آہستہ آہستہ ہم اسے حقیقت ماننے لگتے ہیں، چاہے ہم نے اس کی اصل تحقیق نہ بھی کی ہو۔ سوشل میڈیا کے ماحول میں یہی چیز بہت تیزی سے ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر بات جو ہمیں سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ پوری تصویر ہو۔ بعض اوقات کسی واقعے کا صرف ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ کسی خاص زاویے سے بات کی جاتی ہے، اور دوسرے پہلو نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ جب ہم بار بار اسی ایک زاویے کو دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بھی وہی تصویر بننے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہاں جذبات بہت جلدی بھڑک جاتے ہیں۔ غصہ، خوف یا حیرت پیدا کرنے والی چیزیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ جب انسان جذبات میں آ جائے تو وہ رک کر سوچنے کے بجائے فوراً ردعمل دینے لگتا ہے۔ وہ تبصرہ کرتا ہے، بحث میں شامل ہو جاتا ہے، یا خبر کو آگے بھیج دیتا ہے۔ بعد میں شاید اسے احساس ہو کہ اسے پہلے تحقیق کرنی چاہیے تھی۔

انسانی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اکثر وہی بات قبول کرتے ہیں جو ہماری پہلے سے موجود سوچ کے مطابق ہو۔ اگر کوئی خبر ہماری رائے کے حق میں ہو تو ہم اسے فوراً درست سمجھ لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہمیں لگے کہ بہت سے لوگ ایک ہی رائے کا اظہار کر رہے ہیں تو ہم بھی اسی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ اس ماحول میں بعض بحثیں اس قدر بڑی نظر آنے لگتی ہیں کہ انسان خود کو ان سے الگ رکھنا مشکل سمجھنے لگتا ہے۔ مگر ایک سادہ سی بات یاد رکھنے کی ہے۔ سوشل میڈیا کی بہت سی بحثوں کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا۔ لوگ گھنٹوں تبصروں میں الجھے رہتے ہیں، ایک دوسرے کو جواب دیتے رہتے ہیں، اور آخر میں سب اپنی اپنی جگہ پر ہی کھڑے رہتے ہیں۔ اس دوران وقت گزر جاتا ہے، ذہن تھک جاتا ہے، اور اصل زندگی کے ضروری کام پیچھے رہ جاتے ہیں۔

شاید بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم ہر نظر آنے والی چیز کو فوراً اہم نہ سمجھیں۔ کبھی کبھی رک جانا، سوچ لینا اور خاموش رہنا بھی سمجھداری ہوتی ہے۔ ہر بحث میں شامل ہونا ضروری نہیں۔ ہر بات کا جواب دینا بھی ضروری نہیں۔ بعض اوقات تحقیق کے بعد بولنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

زیادہ شور ہمیشہ زیادہ اہمیت کی نشانی نہیں ہوتا۔ کئی بار اصل اور سنجیدہ مسائل خاموشی سے موجود ہوتے ہیں، جبکہ غیر ضروری باتیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اگر انسان اپنے وقت اور ذہن کی قدر کرے تو وہ اس شور میں الجھنے کے بجائے اپنی توجہ ان چیزوں پر رکھتا ہے جو واقعی معنی رکھتی ہیں۔

یاد رکھیں حقیقت ہمیشہ فوراً واضح نہیں ہوتی۔ اکثر اسے سمجھنے کے لیے صبر، غور و فکر اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے شور میں بہت سی باتیں بغیر سوچے سمجھے پھیل جاتی ہیں، لیکن باشعور لوگ ہر بات پر فوری ردِعمل دینے کے بجائے ٹھہر کر حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے وقت اور توجہ کو بے فائدہ بحثوں کے بجائے ایسی چیزوں میں لگاتے ہیں جو واقعی علم اور فائدہ کا سبب بنیں۔

منیب الرحمن

منیب الرحمن عارفی

منیب عارفی، مانسہرہ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف مصنف ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے نیشنل یوتھ ٹیلنٹ پاکستان قائم کیا۔ وہ عام طور پر نوجوانوں، تعلیم، والدین، پاکستانی معاشرے اور نئے ہنر کے بارے میں لکھتے ہیں، اور ان کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔