Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
غمِ زندگی کو بھلا دیجیے
آئینہ اپنے روبرو کر کے
بعد مدت کے وہ آئے ہیں نظر شام کے بعد
جانا ہی اگر تھا تو کچھ مجھ سے کہا ہوتا
کچھ تو بتا اے دوست پریشاں ہے کس لیے
غمِ زندگی کا بھرم دیکھتے ہیں
سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا
کبھی خوشیاں کبھی غم
جینا مرنا تمھیں سے سیکھا ہے
اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود
قدرتی ٹانک آم کے کرشمے
تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو
شعلہ، کبھی شبنم، کبھی خنجر تری آنکھیں
بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے
<<
1
...
399
400
401
402
403
404
405
406
407
408
409
...
701
>>