سر سید احمد خان کی اردو زبان کے لیے خدمات
برصغیر کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس میں سر سید احمد خان کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں نظر آئے گا۔ عام طور پر انہیں علی گڑھ تحریک اور تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سر سید نے اردو زبان کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اردو کو ایک نئی شناخت بخشی تو غلط نہ ہوگا۔
سر سید کے زمانے میں اردو کو زیادہ تر محفلوں، مشاعروں یا قصے کہانیوں کی زبان سمجھا جاتا تھا۔ علمی اور تحقیقی موضوعات کے لیے فارسی یا انگریزی کا سہارا لیا جاتا۔ گویا اردو صرف دل بہلانے کا ذریعہ تھی، سنجیدہ علم و فکر کی زبان نہیں۔ سر سید نے اس رجحان کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یقین تھا کہ اگر اپنی زبان کو علم اور تحقیق کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی تحریروں کو عام فہم اور سادہ رکھا۔ ان کی نثر میں تصنع اور مشکل پسندی نہیں تھی۔ وہ اس انداز میں لکھتے کہ پڑھنے والا خواہ عام آدمی ہو یا تعلیم یافتہ، آسانی سے ان کے خیالات کو سمجھ سکے۔ یہی انداز آگے چل کر اردو نثر کا معیار قرار پایا۔
1864ء میں سر سید نے ”سائنٹیفک سوسائٹی” قائم کی۔ اس ادارے کے ذریعے یورپ کی سائنسی اور فکری کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ ایک انقلابی قدم تھا، کیونکہ اُس وقت جدید علوم صرف انگریزی میں دستیاب تھے۔ سر سید نے انہیں اردو کے قالب میں ڈھال کر عام طبقے تک پہنچایا۔ یوں اردو زبان کا دائرہ محض گھریلو گفتگو یا شاعری سے نکل کر علم و سائنس تک پھیل گیا۔ اگر یہ کام نہ ہوتا تو آج اردو شاید محض ادبی محفلوں تک محدود رہتی۔
1870ء میں انہوں نے ”تہذیب الاخلاق” جاری کیا۔ یہ صرف ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک تحریک تھی۔ اس میں معاشرتی اصلاح، مذہبی مسائل اور سیاسی حالات پر کھل کر لکھا جاتا، اور سب کچھ اردو زبان میں۔ اس رسالے نے اردو کو زندہ، باشعور اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ زبان بنا دیا۔
ان کی مشہور کتابیں ”آثار الصنادید”، ”تاریخ بجنور”، ”خطبات احمدیہ” اور قرآن کی عقلی تشریح اردو کو علمی اور تحقیقی زبان بنانے میں سنگ میل ثابت ہوئیں۔ اب اردو صرف شاعروں اور داستان گوؤں کی میراث نہ رہی بلکہ دانشوروں اور محققین کی بھی زبان بن گئی۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر سر سید احمد خان کی کوششیں نہ ہوتیں تو اردو کبھی اتنی جامع، زرخیز اور مضبوط نہ بن پاتی۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ اپنی زبان کو کمتر نہ سمجھو۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کی شناخت اور ترقی کی کنجی ہے۔
آج اگر اردو ایک زندہ اور بامعنی زبان ہے تو اس میں سر سید احمد خان کا بڑا حصہ ہے۔ ان کی خدمات اردو کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہیں گی۔
یوسف صدیقی