شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟

غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی

شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟
ہم گنہگارِ وفا پچھتائیں کیوں َ؟

موت ہے دراصل پیغامِ حیات
موت سے اہلِ جنوں گھبرائیں کیوں ؟

دل کے کیف و کم سے جو ہیں آشنا
نفس کی چالوں سے دھوکا کھائیں کیوں ؟

یہ نہیں کہ اُٹھ کے ہم جائیں کہاں
یہ کے تیرے در سے اٹھ کے جائیں کیوں ؟

آئینے کی خود ضرورت ہے ہمیں
آئینہ اوروں کو ہم دکھلائیں کیوں ؟

ہم ہیں اپنی ذات میں خود انجمن
ہم کسی کی انجمن میں جائیں کیوں ؟

پاؤں سے گرداب لپٹی ہے ولیؔ
گردشِ ایَّام سے گھبرائیں کیوں

ولی اللّٰہ ولی

ولی اللہ ولیؔ

سوانحی اشاریہ نام : محمد ولی اللہ قلمی نام : ولی اللہ ولی ؔ ولادت : ۷ جنوری ۱۹۶۷ء جائے ولادت : حسن پور وسطی، مہوا، ویشالی، بہار والدکا نام : محمد امین اللہ ابن علی کریم والدہ کا نام : زاہدہ خاتون بنت عبد السعید عرف محمد موسیٰ تلمّذ : ڈاکٹر معراج الحق برقؔ، جناب قیصرؔ صدیقی تعلیم : ایم۔ اے، پری پی ایچ۔ ڈی(فارسی)، جواہر لعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی مشغلہ : ملازمت، فارسی نشریات، آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی۔