شفق گوں سبزہ

ترنم ریاض کی اردو نظم

بڑی تکلیف تھی تحریر کو منزل پہ لانے میں
تناؤ کا عجب اک جال سا پھیلا تھا چہرے پر
کھنچے تھے ابروؤں میں سیدھے خط
پیشانی پر آڑی لکیریں تھیں
خمیدہ ہوتے گاہے لب
کبھی مژگاں الجھ پڑتی تھیں با ہم!
گرا کر پردۂ چشم اپنی آنکھوں پر
غر ق ہو جاتی سوچوں میں
کہ افسانے میں دیوانے کا کیا انجام لکھوں ؟
اور اسی میں دوپہر ڈھل گئی
نظر کھڑکی جانب جب اٹھی تو
دیکھا شام آتی ہے عظمت سے
شجر، پتے عجب سے نور میں روشن ہیں
شامل ہیں بہت سے رنگ جس میں
قرمزی کرنوں نے
سبزے کو شفق گوں سا منعکس کر کے
ملکوتی فضا میں ڈھال کر
میری نگاہوں تک بڑی عجلت سے لایا ہے
میں اس کو دیکھنے میں گر نہ کچھ پل خود کو گم کرتی
تو ماتھے کے شکن چہرے پہ چھایا یہ تناؤ
بے سکوں آنکھیں
سبھی مل کر میرے دل کو بجھا دیتے

ترنم ریاض

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔