صحت مند زندگی کے لیے مثبت سوچ

ایک اردو تحریر از انور علی

صحت مند زندگی کے لیے مثبت سوچ، یوگا اور ورزش کی شروعات

میں نے سنا تھا کہ جب انسان 40 سال کی عمر پار کر لیتا ہے تو جسم میں درد اور بیماریاں گھیرنا شروع کر دیتی ہیں، اگر وہ اپنی طرزِ زندگی کو نہ بدلے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جیسے ہی 2025 کا آغاز ہوا اور میری عمر 42 سال ہوئی تو مجھے کمر اور گھٹنوں کا درد شروع ہو گیا۔ کئی ڈاکٹروں کو دکھایا، درد ختم کرنے والی گولیاں کھاتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کئی بار فزیوتھراپی بھی کرائی، مگر سب کچھ وقتی آرام دیتا تھا۔

ایک دن میں ایک مشہور فزیوتھراپسٹ کے پاس گیا، اُس نے کہا کہ آپ کے مسلز کمزور ہو رہے ہیں۔ اُس نے کچھ دوائیاں دیں اور چند ورزشیں بتائیں، ساتھ ہی کہا کہ جھک کر کوئی چیز نہ اٹھائیں اور نماز بھی کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔ یہ سن کر میرا دل بہت دکھی ہوا اور آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ میں اتنا کمزور ہو گیا ہوں کہ اب اپنے رب کو سجدہ بھی نہیں کر سکتا۔

پھر میں نے رب سے دعا مانگی، جو اللہ پاک نے قبول کی۔ ایک دن صبح کی واک کے دوران میں ایک پارک گیا، وہاں لوگوں کو یوگا کرتے دیکھا۔ میں بھی اُن میں شامل ہو گیا۔ آج میں اپنے آپ کو بہت بہتر محسوس کرتا ہوں اور میری فٹنس بھی بہتر ہو رہی ہے۔ اب مجھے سمجھ آیا ہے کہ 40 سال کے بعد چلنا، ورزش اور اسٹریچنگ کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ یہ نہ صرف جسم کو صحت مند بناتا ہے بلکہ مثبت سوچ اور بہتر موڈ بھی پیدا کرتا ہے۔

یہ سب کچھ ہماری خراب طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ میرا وزن پہلے 84 کلو تھا، جو دو مہینے میں کم ہو کر 78.5 کلو پر آ گیا ہے اور اب جسم میں لچک بھی آ رہی ہے۔ 40 سال کے بعد "کھانا آدھا اور چلنا دوگنا” ہونا چاہیے، تبھی انسان صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔

ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں بیکریاں بھی بڑھ گئی ہیں اور میڈیکل اسٹورز بھی، اس لیے اپنی لائف اسٹائل کو بدلیں اور صحت مند زندگی گزاریں۔

بھارت کے مشہور لیڈر اور مفکر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا مشہور قول ہے:
"انسان اپنی قسمت نہیں بدل سکتا، لیکن اپنی عادات ضرور بدل سکتا ہے۔ جو شخص اپنی عادات بدلتا ہے، وہ اپنی قسمت بدلتا ہے۔”

مجھے امید ہے کہ آپ سب دوست اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں گے، اپنی زندگی اور اپنے خاندان کے لیے۔ آپ سب بہت قیمتی ہیں، دنیا کو آپ کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔

انور علی

انور علی

انور علی — عزم اور خدمت کا سفر انور علی کا تعلق لاڑکانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں، خیر محمد آریجا تحصیل باقرانی سے ہے۔ بچپن سے ہی تعلیم کے لیے جدوجہد کی، جہاں وسائل کی کمی اور معاشرتی ناانصافیاں تھیں۔ علامہ اقبال کے فکر اور خودی کے تصور نے انہیں زندگی کا نیا مقصد دیا۔ آج، انور علی اپنے وسائل سے ایک تعلیمی فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں، جو 275 غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ ان کا خواب ہے کہ یہ بچے معاشرے کے قابل اور ذمہ دار فرد بنیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے لیے جینا ہے، اور انہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔