سر ہلائے مسکرائے اور غزل جاری کرے
اچھا شاعر اب وہی ہے جو اداکاری کرے
پھول کا پیشہ بکھرنا ہے بکھرنے دیجیے
خوشبوؤں کی کیسے کوئی چار دیواری کرے
ان شرائط پر بنالے کوئی بھی قیدی مجھے
طوق بھی ہلکا نہ ہو زنجیر بھی بھاری کرے
جس طرف دیکھوں لہو بہتا دکھائی دے مجھے
آنکھ کس کس لاش پر روئے عزاداری کرے
بددماغوں کو سنائے کون غزلیں میر کی ؟
بانجھ مٹی میں کوئی کیسے شجر کاری کرے
کاغذوں پر میں اتاروں اس بدن کی سب بیاض
مصرعہ مصرعہ مجھ پہ وہ اپنا جنوں طاری کرے
انگلیاں اٹھتی ہیں تو اٹھتی رہیں ہم کیا کریں
دو ٹکے کے اس جہاں سے کون منہ ماری کرے
فیصلہ اس شخص کے ہاتھوں میں ہے اور کیا خبر
دل کی پامالی کرے ہے وہ کہ ہمواری کرے
عشق کرنا ہی نہیں ہم نے پریشانی ہو کیا
جنگ لڑنی ہی نہیں جب کون تیاری کرے ؟
فقیہ حیدر