سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے
ہوا نگلتے ہوئے جب چراغ جلتا ہے

بھٹکتی صبح کی خوشبو طواف کرتی ہے
منڈیرِ شب سے ندامت کا پھول جھڑتا ہے

سوال کرتے لرزتا ہے دائرہ ء سکوت
صدا اکستی ہے لب پر سفر ادھڑتا ہے

بدن کٹہرے میں عجلت سے جینے والوں کا
اذیتوں کی لپک سہہ کے دم نکلتا ہے

گلوئے خشک , چھلے ہونٹ , پانیوں کی کسک
بوقتِ شام کوئی دشت سے گزرتا ہے

بچھڑنے والے , بتا , وصل کی تمنا میں
پرائے ہجر کا تُو ذائقہ سمجھتا ہے

ادھورے عکس کی حدت کے وہم سے ارشاد
حقیقتوں سے پرے آئینہ بکھرتا ہے

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔