ڈاکٹر سلمان علی صاحب

مدثر عباس کی ایک اردو تحریر

چراغِ علم اور مہر وفا کا پیکر ڈاکٹر سلمان علی صاحب

گھر ہو، جامعہ ہو یا کوئی اور شعبہ، اس کا سربراہ ہونا کسی مصیبت سے کم نہیں کیوں کہ سربراہ ہونا ایک ذمہ داری ہے جو ہر کوئی نبھا نہیں سکتا لیکن کچھ لوگ سربراہی کو اتنے احسن طریقے سے نبھاتے ہیں۔ گمان ہوتا ہے کہ وہ اسی منصب کے لیے بنے ہیں۔

​اُنھیں شخصیات میں ایک نام پروفیسر ڈاکٹر سلمان علی کا بھی ہے جو شعبۂ اُردو، جامعہ پشاور کے صدر نشین ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اُردو ادبیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس وقت شعبۂ اُردو میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

​ڈاکٹر صاحب کو مسکراہٹ ورثے میں ملی ہے۔ بات جو بھی ہو اور جیسی بھی ہو وہ بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ کرتے ہیں۔ مجھے اُن کی یہ ادا بہت پسند ہے۔ ان کے حسنِ اخلاق پر یہ شعر صادق آتا ہے:

​جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

​استادِ محترم نے ہمیں تحقیق اصول و روایت اور غیر افسانوی ادب میں تکنیک پڑھائی ہے۔ اُن کے مزاج کی جو شگفتگی اور لطافت ہے۔ اسے ان کے قارئین اور شاگرد اچھی طرح جانتے ہیں۔ اِس شگفتگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے آپ کو استادِ محترم سے مکالمہ کرنا ہوگا۔

​جامعہ میں دفتری کام اور درس و تدریس کا وقت عموماً چار بجے ختم ہوتا ہے لیکن استادِ محترم پانچ یا ساڑھے پانچ بجے شعبے سے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر طلبہ کلاس کے بعد ان سے تحقیق، کلاس، کسی موضوع یا کسی بھی کتاب کے حوالے سے سوالات پوچھ رہے ہوتے ہیں تو پروفیسر ڈاکٹر سلمان علی ان کو بڑے تحمل سے سنتے ہیں اور ایسی دلچسپ معلومات فراہم کرتے ہیں جو طلبہ کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

​میں نے جب استادِ محترم سے ایسے پیچیدہ موضوعات کے بارے میں جاننا چاہا جو میرے لیے بے حد مایوس کن موضوعات تھے۔ انھوں نے اس بارے میں ایسی رہنمائی فرمائی کہ ایسا لگا جیسے میرے وجود سے کوئی بھاری بھرکم پتھر ہٹ گیا ہو۔

​شعبۂ اُردو میں ڈاکٹر بادشاہ منیر، ڈاکٹر سلمان علی، میڈم روبینہ شاہین، ڈاکٹر اویس قرنی، ڈاکٹر ولی محمد، میڈم فرحانہ قاضی اور ڈاکٹر سہیل احمد، ڈاکٹر احمد ولی جیسے اساتذہ موجود ہیں اور یہ شعبہ انھیں کی بدولت آباد ہے۔

​اس شعبے میں گزرا ہوا وقت ہماری زندگی کا وہ روشن لمحہ ہے جس سے میرے یونیورسٹی کے دن آباد ہیں۔ شعبۂ اُردو ہمیشہ شاد اور آباد رہے، آمین!

​اساتذہ نے میرا ہاتھ تھام رکھا ہے
اسی لیے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر

مدثر عباس
یکم اگست 2026ء

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔