سیلاب میں کسان رل گئے

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

سیلاب میں غریب بہہ گیا کسان رُل گیا

پنجاب کا کسان آج سب سے بڑا غم سہہ رہا ہے۔ اس کے کھیت پانی میں ڈوب گئے، اس کی بھینسیں اور مویشی بہہ گئے، اس کے کچے مکان مٹی میں مل گئے، اس کے بچوں کے پاس کھانے کو روٹی اور پینے کو صاف پانی تک نہیں۔ وہ کسان جو صبح سے شام تک پسینے سے زمین کو زندہ رکھتا ہے، آج خود موت اور بھوک کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس کے چہرے پر دکھ اور بے بسی ہے، اور اس کی آنکھوں میں وہ سوال ہے جس کا جواب حکومت کے پاس کبھی نہیں ہوتا۔

مگر افسوس! ہمارا میڈیا اور سیاست دونوں اس کسان کی چیخ کو نظر انداز کر کے ایک ہی گیت گا رہے ہیں: علیم خان۔ کل سے آج تک یہی نام۔ یوں لگتا ہے جیسے پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پارک ویو میں پانی داخل ہو گیا۔ کوئی پوچھے، جناب! جب زمین دریائی کنارے پر لی تھی تو یہ دن نظر میں نہیں تھے؟ آپ کے پاس اربوں روپے ہیں، آپ دوبارہ سب کچھ بنا لیں گے۔ اصل بربادی تو اس کسان کی ہے جس کا سب کچھ دریا بہا لے گیا۔

چلیے ذرا متاثرہ علاقوں کی طرف چلتے ہیں۔ نارووال، شکرگڑھ، ظفرووال، سیالکوٹ، پسرور، سمبڑیال، منڈی بہاوالدین، وزیرآباد، گجرات، چنیوٹ اور جھنگ کے کسان آج اپنی زندگی کے بدترین کرب سے گزر رہے ہیں۔ حکومت نے پہلے ہی کھاد، بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں سے ان کی کمر توڑ رکھی تھی۔ فصل بیچنے کے بعد بھی انہیں قرض ادا کرنے کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے تھے۔ اب ان کے کھیت ڈوب گئے ہیں، مویشی بہہ گئے ہیں، گھر اجڑ گئے ہیں۔

سیلاب زدہ کسان کی مشکلات کا تصور کیجیے: کھلے آسمان تلے بیٹھے خاندان، بیمار بچے، پینے کے پانی کا فقدان، مچھروں اور بیماریوں کا حملہ، بھوک اور مایوسی۔ امداد؟ وہ فوٹو سیشن کے چند خیموں اور تصویروں سے آگے نہیں بڑھتی۔ وزراء ربڑ کے جوتے پہن کر آتے ہیں، ہنس ہنس کر تصویریں کھنچواتے ہیں، اور واپس گاڑی کے اے سی میں بیٹھ کر چل دیتے ہیں۔ کسان کے لیے نہ علاج ہے نہ راشن، نہ چھت ہے نہ آس۔

طنز یہ ہے کہ ارب پتیوں کا نقصان قومی مسئلہ بنا دیا گیا، لیکن غریب کسان کی اجڑی جھونپڑی خبر بھی نہیں بن سکی۔ میڈیا علیم خان کے پانی بھرے کمروں پر آنسو بہاتا ہے لیکن اس کسان کی چیخ سننے کوئی نہیں جاتا جس کے ساتھ اس کی نسلوں کا خواب دفن ہو گیا ہے۔

پنجاب کی اصل پہچان کسان ہے۔ علیم خان اور اس کی ہاؤسنگ سکیمیں نہیں۔ وہ کسان جس کے ہاتھوں کی محنت سے یہ زمین سانس لیتی ہے، وہی آج پانی میں ڈوبا ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ سیاست اور سرمایہ داری کے شور میں کسان کی فریاد دب کر رہ گئی ہے۔

میرا پنجاب آج پانی میں ڈوبا ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن یاد رکھو! اگر کسان ڈوبا تو پورا پنجاب ڈوبے گا۔ علیم خان اور اس کی سکیمیں روٹی نہیں اگاتیں۔ روٹی وہ کسان اگاتا ہے جسے تم نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔

یوسف صدیقی 

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔