سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا

فرانسس سائل کی ایک اردو غزل

سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا
کسی کوڈهونڈتےهوئےکہیں میں آپ کھوگیا

غریب شہرتھا میں اورپڑاهواتھاراه میں
کوئی تو مُجھ په هنس دیا توکوئی مُجھ په روگیا

ابھی تو شام بھی نہیں ڈھلی هے ٹھیک طورسے
ابھی سے مُنه لپیٹ کر تمام شہر سو گیا

غُبارهوں وه راه کا هے جس نے آسماں چُھوا
چُھواهے آسماں تو کیا میں آسمان هوگیا

مزاج اُن کادیکھ کےپھرآج اُن کی بزم سے
جواُٹھ رهےتھے دوستومیں اُن کے ساتھ هو گیا

فرانسس سائل

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔