صدام حسین، مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور آج کی کشیدگی
مشرق وسطیٰ کی تاریخ ہمیشہ طاقت، مفادات اور بدلتے ہوئے اتحادوں کی کہانی رہی ہے۔ یہاں جو ممالک ایک وقت میں دوست ہوتے ہیں، وہ حالات بدلنے پر دشمن بن جاتے ہیں۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی سیاسی زندگی اسی حقیقت کی واضح مثال ہے۔ ان کا دور نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کی سیاست کو متاثر کرنے والا رہا اور آج بھی ان کے فیصلوں کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔
انیس سو اناسی میں صدام حسین نے اقتدار سنبھالا۔ یہ وہ دور تھا جب پورے مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی تھیں۔ اسی سال ایران میں انقلاب آیا جس نے پورے
ایران کے انقلاب کے بعد عراق اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ سرحدی تنازعات، شط العرب پر دعوے اور نظریاتی اختلافات نے صورت حال کو پیچیدہ کر دیا۔ اسی پس منظر میں انیس سو اسی میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ شروع ہوئی جسے ایران–عراق جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صدام حسین نے ابتدائی طور پر یہ سوچا کہ ایران کی فوج کمزور ہے اور جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ اس دوران لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، دونوں ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی، اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گیا۔
ایران–عراق جنگ کے دوران خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور کویت نے عراق کی مالی مدد کی۔ ان ممالک کو خدشہ تھا کہ ایران کا انقلاب ان کے ملک میں بھی بغاوت کو جنم دے سکتا ہے۔ اس وقت عالمی طاقتیں عراق کو ایران کے خلاف ایک توازن سمجھ کر ساتھ دے رہی تھیں، مگر جنگ کے بعد عراق شدید معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ جنگ کے بھاری قرضے اور معیشتی نقصان اسے مزید خطرناک فیصلوں کی طرف لے گیا۔
ایسے میں عراق اور کویت کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ عراق نے الزام لگایا کہ کویت تیل کی زیادہ پیداوار کے ذریعے عالمی قیمتیں نیچے کر رہا ہے اور عراق کو مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس تناؤ نے بالآخر انیس سو نوے میں کویت پر حملے کی شکل اختیار کی۔ عراق کی یہ فوجی کارروائی خطے اور عالمی سطح پر بحران پیدا کرنے والی ثابت ہوئی۔ امریکہ کی قیادت میں ایک عالمی اتحاد نے عراق کے خلاف کارروائی کی اور چند ہفتوں میں عراق کو شکست دے دی گئی۔
صدام حسین کے فیصلے یہ واضح کرتے ہیں کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے وقتی طور پر تو طاقت کا مظاہرہ نظر آ سکتے ہیں، مگر ان کے اثرات طویل اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ایران–عراق جنگ، کویت پر حملہ اور خلیجی جنگ کے اثرات آج بھی خطے کے سیاسی نقشے پر نمایاں ہیں۔ ان سب کے اثرات صرف حکمرانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ لاکھوں عام شہری، خواتین اور بچے بھی متاثر ہوئے۔
مشرق وسطیٰ آج بھی اسی کشمکش کا شکار ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ بھی اس تنازع میں شامل ہے۔ فروری 2026 کے آخر میں ایران کے مختلف شہروں پر فضائی اور میزائل حملے کیے گئے۔ ایران نے بھی جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے اور خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ خلیج اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ شہری ہلاک ہو رہے ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے اور انسانی زندگی پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی یہ داستان ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت اور جارحیت کے نشے میں کیے گئے فیصلے قوموں کے لئے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایران–عراق جنگ، کویت کا بحران اور موجودہ ایران–اسرائیل–امریکہ کشیدگی سب یہ بتاتی ہیں کہ جب سفارت کاری اور دوراندیشی کو نظر انداز کر دیا جائے تو انسانی جانوں کا نقصان ناقابل تلافی ہوتا ہے۔
خطے کے رہنماؤں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ طاقت کا استعمال عارضی حل ہو سکتا ہے، مگر امن قائم کرنے کے لیے حکمت، سمجھداری اور صبر ہی لازمی ہیں۔ ورنہ تاریخ بار بار خود کو دہراتی ہے اور ہر بار قیمت عوام کو چکانی پڑتی ہے۔
یوسف صدیقی