سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

ایک اردو تحریر از محمد حسین بہشتی

دنیا میں عمومی طور پر سعادتمندی کا معیار مال و دولت کی فراوانی، اولاد، ظاہری عزت و شہرت، اور بلند مقام و مرتبہ کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر جب اس تصور کو دینِ اسلام کی روشنی میں پرکھا جائے تو سعادت کا مفہوم یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ اسلام، جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور برحق دین ہے، انسان کی حقیقی کامیابی اور خوش بختی کو مادی ظواہر کے بجائے روحانی، اخلاقی اور عملی اقدار سے وابستہ کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ
بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

اسی الٰہی ہدایت کی روشنی میں رسولِ اکرم ﷺ نے سعادتمند انسان کی وہ صفات بیان فرمائی ہیں جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں۔ ان صفات کا مختصر مگر جامع تذکرہ درج ذیل ہے:

1۔ تواضع و انکساری

سعادتمند انسان وہ ہے جو تکبر و غرور سے پاک ہو، خود کو دوسروں سے کم تر اور دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ وہ اپنے وجود کو خداوندِ عالم کے حضور سراپا فقر، احتیاج اور بندگی تصور کرتا ہے۔ ایسے انسان کے دل میں خود پسندی اور برتری کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
طوبیٰ لمن ذلَّ فی نفسہ
خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنے نفس کے سامنے عاجز ہو۔

2۔ کسبِ حلال

اسلام میں حلال رزق کو انسانی سعادت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی روزی دیانت، محنت اور شرعی حدود کے اندر رہ کر کماتا ہے، اس کے مال، عمر، اولاد اور زندگی میں برکت نازل ہوتی ہے، اور اس کا دل روحانی سکون سے معمور رہتا ہے۔

3۔ قلب کی پاکیزگی

دل کی طہارت سعادتمندی کی اہم علامت ہے۔ پاک دل انسان وہ ہے جو دوسروں کے بارے میں خیر خواہی رکھتا ہو، حسد، کینہ، منافقت اور فریب سے دور ہو، اور جس کا باطن اس کے ظاہر کی طرح صاف و شفاف ہو۔

4۔ حسنِ اخلاق

اسلام نے اخلاقِ حسنہ کو دین کا جوہر قرار دیا ہے۔ گفتار کی شائستگی، کردار کی پاکیزگی، حلم و بردباری، سخاوت اور عفو و درگزر وہ اوصاف ہیں جو انسان کو معاشرے میں محبوب اور اللہ کے نزدیک مقبول بناتے ہیں۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا:

اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق
مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔

5۔ راہِ خدا میں انفاق

مال کو خدا کی عطا سمجھ کر اس کی راہ میں خرچ کرنا سعادت کی روشن علامت ہے۔ جو لوگ اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق محتاجوں، مسکینوں اور دینی مقاصد پر خرچ کرتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے مال کو بقا اور طہارت عطا کرتے ہیں۔

6۔ کم گوئی اور حکمتِ کلام

سعادتمند انسان فضول اور بے مقصد گفتگو سے اجتناب کرتا ہے۔ وہ موقع، محل، زمان و مکان اور مخاطب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر گفتگو کرتا ہے، کیونکہ اسلام میں خاموشی کو حکمت اور وقار کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

7۔ بے ضرر ہونا

اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسروں کو کسی قسم کی اذیت یا تکلیف نہ پہنچے۔ سعادتمند فرد وہ ہے جو اپنے قول و فعل سے معاشرے کے لیے امن، اطمینان اور سکون کا سبب بنے۔

8۔ اسلامی تعلیمات کی پیروی

حقیقی سعادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خالص اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، دین میں خود ساختہ بدعات سے پرہیز کرے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوارے۔

آخر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی وہ عظیم حدیث ذکر کرنا نہایت مناسب ہے جو حقیقی سعادت کا جامع معیار بیان کرتی ہے۔ آپؑ فرماتی ہیں:

اِنَّ السَّعِیْدَ کُلَّ السَّعِیْدِ، حَقَّ السَّعِیْدِ مَنْ اَحَبَّ عَلِیًّا فِیْ حَیَاتِہٖ وَبَعْدَ مَوْتِہٖ

یعنی حقیقی اور کامل سعادتمند وہ انسان ہے جو اپنی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی حضرت علیؑ سے محبت رکھے۔

حوالہ:
مجمع الزوائد، نورالدین ہیثمی شافعی، جلد 9، صفحہ 132

محمد حسین بہشتی

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)