سعادت حسن منٹو

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک اردو تحریر

سعادت حسن منٹو: حقیقت کا آئینہ اور ادبی جرات

سعادت حسن منٹو بلا شبہ اردو ادب کے سب سے حقیقت پسند اور جرات مند ادیبوں میں سے ایک ہیں۔​منٹو کا شمار اردو ادب کے ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حقیقت نگاری کو محض ایک اسلوب نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بنا دیا۔ ان کی عظمت صرف مغربی رجحانات کو متعارف کرانے میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی وہ جرات دکھائی جو ان کے ہم عصروں میں کم ہی نظر آتی تھی۔ منٹو کا قلم ایک ایسا آئینہ تھا جس نے معاشرے کے خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپی منافقت، کراہت اور انسانیت کی گراوٹ کو بے نقاب کیا۔

منافقت پر کاری ضرب: منٹو جسمانیت اور جنسی جذبات کا اعتراف

​کلاسیکی اردو ادب کی شاید یہ مجبوری تھی کہ ادبیبوں کا ایک بڑا گروہ محبوب کے تصور کو دیوتا بنا کر پیش کرتا رہا جہاں جسمانی کشش کو روحانی محبت کے پردے میں چھپا دیا جاتا تھا۔منٹو نے اس منافقت کو چیلنج کیا اور انسان کے بنیادی جنسی اور جذباتی میلانات کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ذیل میں دیا گیا ایک​اقتباس دیکھیے:

​”وہ عورت تھی، عورت صرف عورت نہیں، بل کہ ایک مکمل عورت تھی۔ اس کے سینے کا اُبھار، اس کے کولھوں کی گولائی، اس کی ہر ادا میں مرد کو اپنی طرف کھینچنے کی وہ کشش تھی جس کے لیے کوئی لغت میں لفظ نہیں ملتا۔”

​منٹو کے کردار، چاہے وہ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کا بشن سنگھ ہو یا ‘کھول دو’ کی سکینہ، یا بازار میں بکنے والی طوائفیں، وہ سب جیتے جاگتے، سانس لیتے اور جسمانی تقاضے رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے جسمانی حقیقت کو چھپانے کے بجائے اسے ادب کا لازمی جزو بنایا۔

​منٹو کی سب سے بڑی خدمت ان کے وہ افسانے ہیں جو 1947 کی تقسیم ہند کے خوفناک واقعات پر لکھے گئے۔ جہاں اکثر ادیبوں نے حب الوطنی یا مذہبی جذبات کو اجاگر کیا، وہیں منٹو نے خون، ہوس اور جنون سے لت پت انسانیت کا ایسا نقشہ کھینچا جو آج بھی دل دہلا دیتا ہے۔”سیاہ حاشیے” سےایک ​اقتباس دیکھیے:

​”لاٹھی پر خون تھا، لکڑی کے تختے پر خون تھا، یہاں تک کہ ہوا میں بھی خون تھا۔ وہ سب انسان نہیں تھے، حیوان بن چکے تھے۔ تقسیم سے پہلے کی نفرت، غصے میں بدل گئی تھی۔”

​’کھول دو’ میں جب باپ اپنی گمشدہ بیٹی کو تلاش کرتا ہے اور اسے پتا چلتا ہے کہ درندوں نے اسے کس حال تک پہنچا دیا، تو یہ صرف ایک کہانی نہیں رہتی بلکہ عصمت ریزی کے بعد خاموش ہوجانے والے معاشرے پر ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

​’ٹوبہ ٹیک سنگھ’ میں بشن سنگھ کا سرحدوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر چیخنا دراصل اس احمقانہ تقسیم پر منٹو کا احتجاج ہے جس نے انسانوں کے دماغوں کو بھی تقسیم کر دیا۔

حاشیے کے کرداروں کو مرکز میں لانا بھی ​منٹو کا ایک اور اہم کارنامہ ہے جو انہوں نے ان کرداروں کو اردو ادب میں مرکزی حیثیت دی جنہیں معاشرہ گھناؤنا سمجھ کر نظر انداز کر دیتا تھا۔ان کے ہیرو اور ہیروئنیں طوائفیں، دلال، جیب کترے، اور جسم فروش ہوتی تھیں۔ان کرداروں کے ذریعے منٹو نے یہ پیغام دیا کہ گناہوں کے پیچھے اکثر غربت، مجبوری اور حالات کی ستم ظریفی کار فرما ہوتی ہے۔ایک افسانے کا ​اقتباس دیکھیے:

​”اس کو اپنے کام سے گھن نہیں آتی تھی… کیوں کہ وہ سمجھتی تھی کہ یہ کام اس کے اپنے اندرونی سچ کا اظہار ہے۔ اگر باہر سچ بولنے کی اجازت نہیں تو جسم کے ذریعے ہی سہی۔”

​منٹو نے یہ دکھایا کہ ایک طوائف کے دل میں بھی ممتا، محبت اور انسانی احساسات اتنی ہی شدت سے موجود ہوتے ہیں جتنے کسی شریف زادی میں۔ وہ منافقت کے پردے چاک کرکے غلاظت میں لپٹی ہوئی سچائی کو باہر لے آئے۔

​ منٹو کے نزدیک ادب کا مقصد خوشنما پردے نہیں بلکہ آئینہ سازی ہے جس میں معاشرے کو اس کا چہرہ دکھایا جا سکے۔​

بقول ڈاکٹر الیاس عاجزؔ:

کب تلک کام لبادے سے چلے گا اپنا

ایک دن پالا حقیقت سے پڑے گا اپنا

منٹو کا ادبی فلسفہ بہت واضح تھا۔ادب کو معاشرتی اصلاح کا پرچارک یا اخلاقی درس دینے والا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا کام ہے ‘جو کچھ ہو رہا ہے’ اسے دکھانا اور ​ان کا یہ بیانیہ انہیں اردو ادب کے تمام رجعت پسندوں اور ‘اچھے ادب’ کی دہائی دینے والوں سے ممتاز کرتا ہے۔منٹو کو اپنی زندگی میں فحاشی کے الزامات پر کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان مقدمات نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ وہ اس سچ کو پیش کرتے رہیں گے جو ہمارے معاشرے کی تہہ میں چھپا ہوا ہے۔

​منٹو کی تحریریں دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کا احتساب ہیں۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے ادب کو بزدلانہ خوبصورتی سے نکال کر سچائی کی کرختگی سے روشناس کرایا۔ ان کا بیانیہ آج بھی اردو ادب کی حقیقت نگاری کا سب سے بڑا ستون ہے۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ