روح میں درد کی تاثیر اٹھا لائے ہیں
یعنی ہم خاکِ درِ میر اٹھا لائے ہیں
ایک منظر ہے جدھر دیکھیے ویرانی کا
آنکھ میں دشت کی تصویر اٹھا لائے ہیں
ایسے زندان کے ماحول سے مانوس ہوئے
قید کاٹی ہے تو زنجیر اٹھا لائے ہیں
بابِ تقسیم پہ عجلت تھی کچھ ایسی، شہباز
ہم کسی اور کی تقدیر اٹھا لائے ہیں
شہباز خواجہ