رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر جیسا

از شاہد ذکی

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر جیسا
ابن۔ حیدر کا کلیجہ بھی ہے حیدر جیسا

اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو
زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا

سرخرو حلقہء حق خون سے کر دیتا ہے
آج بھی سامنے حجاج کے قنبر جیسا

ایک بھائی تری فوجوں سے زیادہ ہے مجھے
حضرت۔ غازی۔ عباس۔ دلاور جیسا

یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں
آسماں لگتا ہے زینب تری چادر جیسا

ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں
کیا جوانوں میں جواں ہے کوئی اکبر جیسا

مرتبہ آپ ہی طے کیجیے اس پیکر کا
ہو بہو جو نظر آتا ہے پیمبر جیسا

اذن اگر ہو تو یزیدوں کو بہا لے جائے
اشک ہے چشم۔ سکینہ میں سمندر جیسا

پھر گئی ہی نہیں ویرانیء باغ۔ دنیا
پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغر جیسا

اصل در اصل ہے راضی بہ رضا ہو جانا
دشت بچوں کو جو لگنے لگا ہے گھر جیسا

ابدی منظر۔ میزان۔ حق و باطل ہے
طشت و تلوار سے اوپر ہے جو وہ سر جیسا

دھوپ اس در میں در انداز نہیں ہو سکتی
جس پہ پھیلا ہو علم سایہء شہپر جیسا

پہلوئے کرب و بلا میں ذرا آنا کسی دن
تم نے دیکھا نہیں پانی کبھی پتھر جیسا

ایک خطبہ ہے کہ ایمان بدل دیتا ہے
ایک مقتل ہے کہ ہے مسجد و منبر جیسا

جو ترے تھے وہ اندھیرے میں بھی تیرے ہی رہے
کوئی لشکر نہیں دیکھا ترے لشکر جیسا

دل تو کربل میں ہے لیکن مرے سینے اندر
پھڑپھڑاتا ہے کوئی زخمی کبوتر جیسا

پوچھنا یہ ہے کہ انصاف کہاں ہے شاہد
دیکھنے میں تو یہ میدان ہے محشر جیسا

شاہد ذکی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔