ہمارے گھر اک عورت آتی تھی ۔نہایت نیک مؤدب۔دیندار۔بہت سلیقے مند خاتون تھیں۔مگر انکے خالات اتنے اچھے نہ تھے۔مگر جب وہ آتیں میری امی بہترین کھانا بہترین خدمت کرتیں۔اور دادی اماں ایسے سلوک کرتیں جیسے سگی بہن ھوں۔مگر مجھے معلوم نہ تھا یہ آخر ہیں کون۔تجسس عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔۔سوال کرتی یہ کون ہیں تو دادی اماں کہتی یہ ھمارے لیے بہت اہم انسان ہیں۔پھر وہ بہت کم آنا شروع ھو گئ۔اک روز ہو اچانک سے آگئیں۔وہی خدمت کھانا سب کچھ میں بڑی خیران آخر ایسا کیا ھے ان خاتون میں میں اپنی دادی اماں سے پوچھ لیا آخر یہ ہیں کون؟
ان دونوں نے اک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولیںمین تمہارے ابا کی رضائ اماں ہوں۔میں اور پریشان رضائ اماں۔ھاں یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔یہ دادی اماں بولیں ۔پھر دادی اماں نے وھ بات بتائ جس نے میری ذندگی کا رخ بدل دیا
دادی اماں نے بتایا۔جب میرے والد پیدا ھوۓ تھے۔تب انکو کوئ طبعی مسلہ ھو گیا تھا وہ دودھ نہی پلا سکتی تھیں۔اور والد صاحب کے لیے ماں کا دودھ بہت ضروری تھا۔ہم بہت پریشان ھو گۓ کیا کیا۔جاۓ۔پھر تمہارے دادا ابو کو ان لوگوں کا خیال آیا ۔انکے شوھر اور تمہارے دادا ابو گہرے دوست تھے۔اور انکے گھر بھی بچہ پیدا ھوا تھا۔تمہارے دادا ابو نے مجھ سے مشاورت کے بعد ان کے گھر چلے گۓ جا کر سارا ماجرہ سنایا ۔انہوں نے اپنی بیوی سےمشاورت کی تو یہ اک نیک خدا خوف ۔نرم دل عورت ہیں۔انہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر حامی بھر لی۔اب تمہارے دادا ابو گھر آۓ مجھے بتایا اور تمہارے والد کو انکے گھر چھوڑ آۓ۔میں تب بڑا روئ میرا بچہ دور ہو گیا۔تھا۔ادھر دادی اماں خاموش ھو گئ اور وہ نیک عورت نے مجھے بتانا شروع کیا
جب تمہارے والد آۓ تو وہ کمزور سا انتہائ چھوٹا سا تھا۔مجھے بڑا پیارا لگا۔میری بڑی بیٹی نے کہا اماں یہ بھی میرا بھائ ھے۔میں کہا۔ہاں اسکا اپنے سگے سے زیادہ خیال رکھنا ھے۔یہ بھائ ھونے کے ساتھ ساتھ امانت ھے اور امانت میں خیانت کی قطعی گنجائش نہی۔تمہارے والد کو بھوک بہت لگتی میں اسکو زیادہ دودھ پلاتی دھیان رکھتی۔اللہ کا فضل تھا کہ وہ ٹھیک ھونا شروع ھو گیا صحت اچھی ہونے لگی۔اور میں بھی صحت مند ھونے لگی ۔تمہارے دادا جمعے کے جمعے ہمارے گھر گوشت۔پھل۔سبزیاں تمہارے والد کی ضرویات کا سامان لے آتے ۔ہم منع کرتے تو کہتے میں اپنی بہن کے لیے لاتا ھو۔اور میرا بچہ آپ کے پاس ھے۔خالی ہاتھ کیسے آ سکتا ھوں۔آخر وقت گزرتا گیا۔اور وہ وقت آگیا جب دودھ کی مدت پوری ھو گئ۔تمہاری دادی۔دادا تمہارے والد کو لینے آگۓ۔میں میری بیٹیاں بہت روئیں۔پر امانت تھی واپس کرنی تھی۔خیر اب تمہارے والد کا دل نہی تھا لگتا وہ بیمار رہنے لگا اور پھر میں اسکے پاس آتی جاتی رہتی یاں وہ آجاتا۔وقت گزرتا گیا۔مگر تمہارے والد کی محبت و عزت ویسے ہی رہی۔دوکان پرسیٹ ھو گیا تو میڑی بیٹیوں کی شادی کروای۔میری ضرورت کا خیال رکھا۔میرے شوہر کی وفات کے بعد میرا بازو بن گیا جو سگے تھے وہ شادی کروا کر چلے گۓ۔میں بیمار ھوئ میرا علاج کروایا ۔مجھے کسی شے کی کمی نہی ھونے دیتا۔منع کرتی ھو ں تو کہتا ھے اماں تیرا قرض میں ادا نہی کرسکتا۔اور تمہاری دادا دادی نے کبھی اسے منع نہی کیا۔ اللہ اسکو ہر نعمت سے نوازے پھر دعاؤں کی بارش ھوئ دونوں ماؤں کی طرف سے۔اور دونوں کے آنکھوں میں محبت و آنسؤں تھے
میری دادی اماں کہتی تھی انور جیسا بیٹا اللہ سب کو دے۔ وہ میرا ہیرا ھے۔ پاپا اپنی اماں کے پاس جمعے کے جمعے جاتے تھے ۔انکے کام کرتے۔ اور دعا کرتے ۔انکی وفات کا پاپا کو بڑا دکھ ہوا ۔میں دیکھتی تھی وہ اکثر انہیں یاد کر کے روتے تھے۔اور دادی اماں کے اور قریب ھو گۓ۔خدمت میں دعاؤں میں۔بہت لاڈلے و پیارے ھوگۓ۔پر اللہ ہر انساں کے پسندیدۀ شے کا امتخان لیتا ھے۔میرے پاپا کی پسندیدۀ چیز اولاد تھی۔اور دادی اماں کے لیے وہ
اک بیماری نے پاپا کو لے گھیڑا ایسا گھیڑا کچھ عرصے بعد دادی اماں سے انکا بیٹا ھمیشہ کے لیے جدا ھو گیا اور ہم سے ہمارے باپ کا سایہ مشفقت۔دادی اماں سے یہ دکھ برداشت نہ ھوا اک سال میرے فرض کی ادائیگی کے بعد وہ بھی چلی گئ۔اور جاتے وقت میرا ھاتھ تھام کر کہتی ہیں۔میں اپنے انور کے پاس جا رہی ھوں۔اب ہم کبھی جدا نہیں ھوگے۔اور وہ بھی چلی گئ۔
اسوقت میرے والد اپنے۔دونوں ماؤں کے ساتھ جنت میں ھوں گے۔دنیا کی جدائ سے کہی دور۔
آج میں جب یہ سب سوچتی ھوں تو احساس ھوتا۔ماں پیدا کرنے والی ھو یا پرورش کرنے والی ماں سے محبت اک انمول تحفہ ھے۔ اور میرے والد خوش نصیب انسان تھے جن کو ایک نہی دو ماؤں کی محبت ۔احساس۔ قدر۔ دعا ملی ھے۔
اور ھمیں اک بہترین باپ جو ہمیں دنیا سے زیادہ دین کی رغبت سیکھا گۓ ہیں۔
اللہ کریم سے دعا ھے کہ اللہ پاک میرے والد مخترم سمیت ہر مسلمان کے بخشش فرمائیں۔ آمین۔
صنم فاروق