رستہ ہوں فقط رختِ سفر میں تو نہیں ہوں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

محترم شہزاد نئیر کی زمین میں غزل

رستہ ہوں فقط رختِ سفر میں تو نہیں ہوں
گم گشتہ تخیر کا ثمر میں تو نہیں ہوں

اسلوب مرے جیسا نظر آیا ہے سب کو
لہجے میں ترے آیا نظر میں تو نہیں ہوں

ہجرت کی سہولت سے پریشان پرندو
سائے سے گریزاں ہے شجر میں تو نہیں ہوں

آواز ندامت کا لبادہ جہاں پہنے
اک خامشی رہتی ہے اُدھر میں تو نہیں ہوں

قسمت کی کلائی سے بندھی صبر کی امید
خوش بخت نصیبوں کی ڈگر میں تو نہیں ہوں

تجھکو بھی بچھڑنے کا کوئی صدمہ نہیں ہے
آ دیکھ مجھے دیدہ ء تر میں تو نہیں ہوں

دیوار ہے, تصویر ہے, آئینہ ہے, ارشاد
تڑخن کی اذیت سے نہ ڈر میں تو نہیں ہوں

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔