رنجِ دُنیا سے کبھی چشم

سلام اہل بیت از میر انیس

رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں
جُز غمِ آلِ عبا ہم اور غم رکھتے نہیں

کربلا پُہنچے زیارت کی ہمیں پروا ہے کیا؟
اب ارم بھی ہاتھ آئے تو قدم رکھتے نہیں

در پہ شاہوں کے نہیں جاتے فقیر اللہ کے
سر جہاں رکھتے ہیں سب، ہم واں قدم رکھتے نہیں

دیکھنا کل ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اُنکے سر
آج نخوت سے زمین پر جو قدم رکھتے نہیں

کہتے تھے اعدا کہ بچے بھی علی کے شیر ہیں
جب بڑھاتے ہیں تو پھر پیچھے قدم رکھتے نہیں

چادریں جب چھینیں رانڈوں کی تو عابد نے کہا
کچھ حیا و شرم یہ اہلِ ستم رکھتے نہیں

مرثیے اِک دن میں کیا سب کہہ کے اُٹھو گے انیس
ہاتھ سے کیوں آج قرطاس و قلم رکھتے نہیں

میر انیس

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔