چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
انسان دنیاوی اعتبار سے جتنی محنت کرتا ہے اسے وہی منصب اور مقام ملتا ہے لیکن ایک اہل ایمان مسلمان اپنے خالق حقیقی اور اپنے رب تعالیٰ سے کس مقام کا امیدوار ہوتا ہے یعنی اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہو کہ الللہ رب العزت کے نزدیک ہمارا مقام کیا ہے وہ کیسے پتہ چلے گا اس بات کا جواب ایک بزرگ نے بڑے پیارے انداز میں دیا وہ فرماتے ہیں کہ اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ رب تعالیٰ کے نزدیک تمہارا کیا مقام ہے تو دیکھو کہ اس نے تمہیں کس کام مصروف رکھا ہوا ہے تم کس کام میں زیادہ مشغول رہتے ہو اگر وہ تمہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھنا چاہتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں یاد رکھنا چاہتا ہے اگر وہ تمہیں قرآن پڑھنے پڑھانے میں مشغول رکھے تو سمجھ لو کہ وہ تم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے اگر وہ تمہیں نیک اعمال کرنے میں مشغول رکھے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر وہ رب العزت تمہیں دنیاوی معاملات میں الجھا کر رکھے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں اپنے آپ سے دور کرنا چاہتا ہے اگر وہ رب تمہیں لوگوں کے معاملات میں مشغول رکھے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے اگر وہ باری تعالیٰ تمہیں دعا کرتے رہنے میں مشغول رکھے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے اگر وہ مالک و مولا تمہیں اس علم کے حصول میں مشغول رکھے جس سے تمہیں فائدہ ہو تو سمجھ لینا کہ وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی معرفت حاصل کرو اگر وہ رب العزت تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رکھے تو سمجھ لینا کہ اس نے تمہیں اپنے لیئے چن لیا ہے اگر اس نے تمہیں بھلائی اور نیکی کے کاموں میں مشغول رکھا ہوا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ تم سے وہ کام لینا چاہتا ہے جس سے وہ محبت فرماتا ہے اگر وہ تمہیں غیر ضروری اور فضول کاموں میں مشغول رکھتا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں اپنی محبت والے کاموں سے دور رکھنا چاہتا ہے اگر وہ تمہیں دین سے دوری اور اس کی نافرمانی والے کاموں میں مشغول رکھتا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں اپنی محبت سے محروم کررہا ہے اگر وہ رب العزت تمہیں لوگوں کو اذیت اور تکالیف پہنچانے میں مشغول رکھے تو سمجھ لینا کہ وہ تمہیں اپنی عنایتوں سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اب ان صورتحال کو سامنے رکھ کر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کہاں اور کن کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ ہم جس طرح کے کاموں میں مشغول ہوں گے ہمارے رب تعالیٰ کے نزدیک ہمارا وہی مقام ہوگا جن کاموں میں اس نے ہمیں دنیاوی زندگی میں مشغول رکھا ہوگا فیصلہ اب ہمارے ہاتھ ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم جس معاشرے میں اپنی زندگی گزاررہے ہیں یہاں ہر انسان کئی کئی گناہوں میں ملوث نظر آتا ہے دوسروں کی غیبت کرنا ایک دوسرے کی برائی کرنا دھوکہ دینا دوسروں کو حقیر سمجھنا حرام حلال کی پرواہ نہ کرنا جائز کو جائز اور ناجائز ناجائز نا سمجھنا سچ چھوڑ کر جھوٹ پر چلنا اور ایسے کئی گناہ ہیں جس میں دن رات ہم مصروف عمل رہتے ہیں انہی گناہوں میں ایک بہت بڑا گناہ ہے جو بہت عام ہے وہ ہے بد نگاہی یعنی بد نظری جس میں ایک کثیر تعداد لوگوں کی ملوث نظر آتی ہے خاص طور پر ہماری نوجوان نسل لیکن اس سے بچنے کا حل کیا ہے ؟ آیئے غور سے پڑھیئے اور کوشش کرکے عمل کرنے کی کوشش کیجیئے ایک نوجوان تھا جو بد نظری کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایک بزرگ اسے ہمیشہ روکتے اور سمجھاتے لیکن وہ نہیں مانتا تھا ایک دن وہ ان بزرگ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں بدنظری سے پرہیز کروں لیکن میں کیا کروں بازار میں چلتے ہوئے مجھ سے اپنی نظروں کی حفاظت نہیں ہوتی نوجوان ہوں اور بازار میں چلتی ہوئی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھ کر نظر آٹھ ہی جاتی ہے آپ ہی بتائیں میں کیا کروں ؟ بزرگ نے جب اس نوجوان کر سنجیدہ ہوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ٹھیک ہے میں تمہیں اس مسئلے کا حل بتاتا ہوں لیکن اس سے پہلے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا تو نوجوان نے کہا ٹھیک ہے بتایئے کیا کام ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ان بزرگ نے اس نوجوان کو دودھ کا ایک پیالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ دودھ کا پیالہ لیکر ان بزرگ کے پاس جا کر انہیں دے آئو جو بازار کے دوسرے کونے میں رہتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ پیالے سے دودھ بالکل گرنا نہیں چاہئے تو نوجوان نے کہا کہ جی بالکل نہیں گرے گا اس بزرگ نے کہا کہ میں ایک مظبوط آدمی تمہارے ساتھ بھیجتا ہوں اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی گرا تو وہ وہیں تمہیں بازار میں دو جوتے مارے گا نوجوان نے کہا کہ مجھے منظور ہے پھر وہ پیالہ اٹھا کر چل دیا اب اس نوجوان نے دودھ سے بھرے پیالے کو بڑی احتیاط کے ساتھ بغیر جوتے کھائے اس بزرگ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا اور خوشی خوشی واپس آگیا بزرگ نے پوچھا کہ دودھ نہیں گرا تو نہیں تو کہنے لگا کہ نہیں ایک قطرہ بھی گرنے نہیں دیا اب مجھے بد نظری سے بچنے کے لیئے کچھ بتایئے تو انہوں نے پوچھا کہ اچھا یہ بتائو کہ جاتے ہوئے سارے راستے میں کتنے لوگوں کو دیکھا یعنی کتنی شکلوں کی طرف تمہاری نظر گئی تو نوجوان نے کہا ایک بھی نہیں تو بزرگ نے فرمایا وہ کیوں تو نوجوان کہنے لگا کہ میرا دھیان صرف پیالے کی طرف تھا کہ کہیں اگر اس میں موجود دودھ کا ایک قطرہ بھی گرتا تو مجھے بھرے بازار میں دو جوتے کھانے پڑتے رسوائی ہوتی وہ الگ اس لیئے میرا کسی اور طرف دھیان ہی نہیں گیا نوجوان کی اس بات پر بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ یہ ہی تو تمہارے مسئلے کا حل ہے جو تم میرے پاس لیکر آئے تھے دراصل جو لوگ صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر عمل کرتے ہیں ان کی نظر ہمیشہ اپنے دل کے پیالے پر ہوتی ہے وہ اسے چھلکنے نہیں دیتے کیوں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی گناہ کے سبب یہ پیالہ چھلک گیا نظر بہک گئی تو بروز محشر سب کے سامنے رسوائی کا سامنہ ہوگا اس لیئے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور محشر میں رسوائی کا اندیشہ ہو تو وہ اپنی نظروں کا خیال بالکل اسی طرح رکھتے ہیں جیسے تم نے دودھ کا پیالہ لے جاتے ہوئے رکھا اس طرح کبھی بھی بدنظری نہیں ہوگی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں بیشک بد نظری بد نگاہی ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس چھوٹی سے حکایت سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوا کہ اس گناہ سے کیسے بچا جائے اور کس طرح اپنے دل میں رب العزت کا خوف پیدا کرکے بروز محشر رسوائی سے بچنے کے لیئے اس گناہ سے بچنا چاہیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب کوئی انسان اپنے رب تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر صرف اور صرف اس کی رضا کے لیئے اپنے آپ کو مشغول کردے تو اللہ تعالیٰ بھی پھر اپنے اس بندے کو وہ مقام عطا فرماتا ہے جو اس نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ کرام علیہم الرضوان بزرگان دین اور اولیاء کرام کو عطا فرمایا ایسے محبوب بندوں کے لیئے وہ کس طرح اپنی قدرت کے نظارے ہمیں دکھاتا ہے ” روح البیان ” میں ایک خوبصورت واقعہ موجود ہے کہ جب سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تم دنیا بھر کے چکر لگاتے ہو کیا کبھی ایسا ہوا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے کسی کام کا حکم دیا ہو اور تمہیں بڑی مشقت اور جلدی سے فوراً زمین پر اترنا پڑا ہو تو عرض کیا کہ حضور ﷺ مجھے چار مرتبہ فوراً اپنی تیز رفتاری کے ساتھ زمین پر اترنا پڑا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بتائو وہ چار مواقع کون سے تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ ایک مرتبہ اس وقت جب حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو رب العزت نے حکم دیا کہ میرے خلیل کے آگ تک پہنچنے سے پہلے پہنچو اس لیئے مجھے فوراً اپنی سرعت کے ساتھ زمین پر اترنا پڑا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ دوسری مرتبہ اس وقت جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلنا تھی تو حکم ہوا کہ میں پہنچوں اور چھری کو الٹا مردوں لہذہ میں فوراً اپنی تیز رفتاری کے ساتھ زمین پر پہنچا اس سے پہلے کہ چھری چلے میں اسے الٹا کردیا اور پھر چلنے دیا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ تیسری مرتبہ اس وقت جب حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو مجھے حکم ہوا کہ میں فوراً پہنچو اور کنویں کی تہہ تک حضرت یوسف علیہ السلام کو پہنچنے سے پہلے ایک پتھر رکھ دوں تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اس پر آرام سے بٹھادوں میں نے اپنی سرعت کے ساتھ پہنچ کر ایسا ہی کیا اور چوتھی مرتبہ اس وقت مجھے اپنی تیز رفتاری کے ساتھ فوراً زمین پر اترنا پڑا جب کافروں نے آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید کر دیئے تھے اور خون بہنے لگا اس وقت مجھے حکم الٰہی ہوا کہ میں فوراً زمین پر پہنچوں اور اس خون کو زمین تک پہنچے سے پہلے اپنے ہاتھوں میں لے لوں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے رب نے فرمایا کہ اے جبرائیل اگر میرے محبوب کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرجاتا تو قیامت تک یہ زمین نہ سبزی اگاتی نہ پھل اور نہ اور کچھ اس لیئے میں نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے اللہ والوں کا اپنے رب پر توکل اور اللہ تعالیٰ کا اپنے خاص اور محبوب بندوں سے پیار کا اظہار لیکن یہ سب کچھ یہیں تک نہیں ہے اگر ہم اور آپ بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی اور اس کے آخری نبی آخری رسول ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا اپنے ہر عمل میں صرف اور صرف رب العزت کی رضا کو سامنے رکھنا ہوگا ان سارے چھوٹے چھوٹے واقعات اور حکایات میں ہمیں یہ ہی سبق ملتا ہے کہ اپنے آپ کو صرف ان کاموں میں مشغول رکھو جس ہمارا رب راضی ہو کسی بھی گناہ سے بچنے کے لیئے یہ سوچنا فضول ہے کہ ہم ایسے گناہ سے کیسے بچیں کیسے نکلیں اللہ تعالیٰ اور قیامت والے دن کے خوف کو دل پیدا کرنے سے یہ سب کچھ ممکن ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور ولیوں کا دامن پکڑ کر ان کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص ہم پر بھی برسنا شروع ہو جائیں گی انشاء اللہ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے واقعات اور ایسی حکایات آپ تک پہنچاتا رہوں جسے پڑھ کر اگر کسی نے عمل کرنا شروع کردیا تو میرا مقصد پورا ہو جاتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

‎‎