قابل نہیں سمجھتے جنھیں ہم بھی شان کے
ملتے ہیں ایسے لوگ ہمیں سینہ تان کے
پلکوں پہ رکھ کے خواب، سنوارے تھے جو کبھی
ٹوٹے تو درد بن گئے قصے جہان کے
دنیا کی دھوپ چھاؤں میں تھکتے نہیں کبھی
سایہ عطا ہیں لوگ جو مثلِ امان کے
اک دوسرے کی بات کو سنتے نہیں یہاں
الفاظ مر گئے ہیں سبھی داستان کے
ہر سمت بے یقینی کے سائے بچھے ہوئے
کس پر کریں بھروسہ یہاں دوست جان کے
یادوں کی دھوپ دل کو جلانے لگی ہے جب
سائے بھی دور ہو گئے اپنے مکان کے
دھرتی پہ روشنی کے طلب گار کم ملے
سب محو ہیں اندھیروں میں اپنے جہان کے
جذبوں کی آگ بجھتی نہیں تیز دھوپ میں
اک حوصلے کا رنگ ہے چہرہ جوان کے
لب پرہے ثوبیہ کے دعاؤں کی کہکشاں
دل کو سکون دیتے ہیں جملے اذان کے
ثوبیہ راجپوت