پیار دی مالا جپدے رہے آں

تجمل کلیم کی ایک پنجابی غزل

پیار دی مالا جپدے رہے آں
لبھنا کیہ سی کھپدے رہے آں

وَن اُگے تے اوہدی مرضی
اُنج تے بندے نپدے رہے آں

خط پَتّر ای ہُلّے نئیں سن
رُکھاں تے وی چھپدے رہے آں

بُلّھا ہونا شرط سی خورے
نچناں کاہدا ! ٹپدے رہے آں

اج اِک گھر نہ بنیا ساتھوں
کل پَیراں تے تَھپدے رہے آں

حوالہ: برفاں ہیٹھ تندور، پہلا پیر پبلی کیشنز اسلام آباد؛ صفحہ 65

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔