پہلے آواز لگائی ہم نے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

پہلے آواز لگائی ہم نے
پھر ہنسی خوب اڑائی ہم نے

اک اذیت میں بسر کی ہے رات
دیکھ کر قبر پہ کائی ہم نے

شور دیوار گرا سکتا تھا
اس لیے چیخ دبائی ہم نے

بےسبب ہاتھ نہیں کاٹے گئے
تیری تصویر بنائی ہم نے

دوسری کال پہ مصروف ملا
جب کبھی کال ملائی ہم نے

یونہی چوپال میں چھائی وحشت
داستاں کب ہے سنائی ہم نے

نیکی دریا میں نہیں پھینکی ہے
دشت میں آپ گنوائی ہم نے

اس اندھیرے میں اجالے کے لیے
پھر سے شمع ہے جلائی ہم نے

زخم دنیا سے چھپایا ارشاد
خود کو بھی دی نہ رسائی ہم نے

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔