پیٹیے مت لکیر, اکٹھے ہیں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

پیٹیے مت لکیر, اکٹھے ہیں
بے حیا , بے ضمیر اکٹھے ہیں

کب مساوات اور مدینہ ہے
کب مرید اور پیر اکٹھے ہیں

شعلگی سے خبر ملی ہے مجھے
اب ہدف نیزہ تیر اکٹھے ہیں

دیکھ کشکول سے الجھتے ہوئے
اس گلی میں فقیر اکٹھے ہیں

صبح زنداں میں بین کرتی ہے
تیرگی شب اسیر اکٹھے ہیں

شاخ پھل گھونسلہ پرندے ہوا
پیڑ کا سینہ چیر ,اکٹھے ہیں

رنگِ اسلوب ہے جدا ارشاد
میر غالب دبیر اکٹھے ہیں

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔