پرورش کے امتحان

ایک اردو تحریر از زاہد خان

والد ہونا بظاہر ایک فطری رشتہ ہے، مگر حقیقت میں یہ سب سے بڑا امتحان بھی ہے۔ آج کے دور میں والدین بننا شاید ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ایک طرف دنیا کی برق رفتاری، مسابقت اور معاشرتی دباؤ ہے، تو دوسری طرف دین کی ہدایات اور اخلاقی تقاضے ہیں۔

ایک باپ جب اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے خوابوں کے کئی نقش ابھرتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا روشن مستقبل کا حامل ہو، معاشرے میں ایک مقام بنائے اور سب سے بڑھ کر دین و اخلاق کا پیکر ہو۔ مگر جب یہی باپ صبح کی اذان پر بیدار ہو کر دیکھتا ہے کہ بچے خوابِ غفلت میں ہیں، تو اس کے دل میں دوہری کشمکش جنم لیتی ہے۔

ایک طرف حدیث کا حکم ہے کہ سات سال کی عمر میں بچے کو نماز کا کہا جائے اور دس سال میں نہ پڑھے تو سختی بھی کی جائے۔ لیکن دوسری طرف دل یہ سوال کرتا ہے کہ اگر مارا یا ڈانٹا تو کہیں بچے کے دل میں نفرت نہ جاگزیں ہو جائے؟ کہیں وہ دین سے بددل نہ ہو جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر والدین کے لیے فیصلہ کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔

والد کے کاندھوں پر بیک وقت کئی بوجھ ہوتے ہیں۔ دین کی پاسداری، اولاد کی پرورش، ان کے اخلاق کی درستگی، تعلیم کی فراہمی اور دنیا کے بے رحم تقاضوں کے مطابق انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنا۔ یہ سب کچھ بظاہر آسان لگتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جو والد کو اندر ہی اندر تھکا دیتی ہے۔

اکثر باپ اس کشمکش میں ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ کیسے اپنی اولاد کو دنیا کے ساتھ ساتھ دین سے بھی جوڑے رکھیں۔ کیسے انہیں عزتِ نفس دیں، مگر وقت آنے پر اصلاح بھی کریں۔ یہ ایک ایسا توازن ہے جو الفاظ میں آسان، مگر عمل میں نہایت مشکل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے: اولاد کی پرورش والد کے لیے سب سے بڑی ریاضت ہے۔ ایک باپ کی دعائیں، اس کے خواب اور اس کی تھکن سب اسی امید پر ٹکی ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی آنے والے کل میں اس کی دعاؤں کا ثمر بنے۔ وہ جانتا ہے کہ محنت اور محبت کے بیچ یہ سفر آسان نہیں، لیکن یہی سفر اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا مشن ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں والد کی دعائیں اور محنتیں اپنی پوری شدت کے ساتھ اولاد کے گرد حصار بناتی ہیں۔ ایک باپ شاید دنیا کے سامنے کم بولے، کم دکھائے، مگر اس کے دل میں اولاد کے لیے فکر کا دریا ہر لمحہ رواں رہتا ہے۔

"باپ کی دعا وہ چھاؤں ہے جو اولاد کے سفرِ حیات کو جلنے نہیں دیتی۔ یہ دعا کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے اس کا اثر برسوں بعد ہی کیوں نہ ظاہر ہو۔

تحریر: طفلِ مکتب

زاہد محمود خان

زاہد محمود خان سندس فاؤنڈیشن سیالکوٹ کے ایڈمنسٹریٹر ہیں .وہ اچھے اینکر اور کالم نگار بھی ہیں .اس کے علاوہ وہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر ہیں