آپریشن غضب للحق: اور خطے کا بدلتا منظرنامہ
افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے میں ایک نئی امید نے جنم لیا تھا۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جنگ سے تھکا ہوا افغانستان داخلی استحکام کی طرف بڑھے گا، طالبان افغان عوام کے مفادات کو ترجیح دیں گے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کی بنیاد رکھیں گے۔ مگر وقت کے ساتھ حالات نے وہ رخ اختیار نہیں کیا جس کی امید کی گئی تھی۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا حالیہ بیان اسی تلخ حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا:
"نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریں گے۔ مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیا۔ ساری دنیا کے دہشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا۔ خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے۔
پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھر پور سفارت کاری کی۔ مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے۔ آج جب پاکستان کو
اسی تناظر میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا۔ صبح 3 بج کر 40 منٹ، 27 فروری 2026 کو شروع ہونے والے اس آپریشن کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ کابل، پکتیا اور قندھار میں دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کا امکان ظاہر کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار محض عسکری کامیابی کی تفصیل نہیں بلکہ اس شدت کی نشاندہی ہیں جو اب تعلقات میں در آئی ہے۔ ریاست جب اپنی سلامتی کو براہ راست خطرے میں محسوس کرے تو جواب بھی اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔
دوسری جانب ملک کے اندر جو منظر ابھر کر سامنے آیا وہ بھی قابل غور ہے۔ جیسے جیسے پاکستان کے نوجوان پاک فوج کے حق میں پوسٹس کر رہے ہیں، ویسے ویسے بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز کے ارمان خاک میں ملتے جا رہے ہیں، کیونکہ انہیں ان ڈالرز کا حساب بھی دینا ہوگا جو انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے لیے تھے۔
یاد رکھیں، پاکستانی ایسی قوم نہیں جو وطن سے غداری کرے۔ ہمیں وطن سے محبت کا سبق گھٹی میں ملا ہے۔
اس وقت پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام مجاہد نوجوانوں کو سلام۔
چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے، رنگ، نسل یا سیاسی جماعت سے ہو، انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وطن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
یہ یکجہتی اس امر کا ثبوت ہے کہ داخلی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی سلامتی پر قوم ایک صف میں کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، سفارتی سطح پر افغانستان کے استحکام کی بات کی، اور خطے میں امن کا داعی رہا۔ مگر جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو لہجہ بھی بدل جاتا ہے اور حکمت عملی بھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ محاذ آرائی طویل رخ اختیار کرے گی یا طاقت کے اظہار کے بعد سفارت کاری کے دروازے دوبارہ کھلیں گے۔ جنگ کا شور وقتی جوش تو پیدا کر سکتا ہے مگر پائیدار امن تدبر، ذمہ داری اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
آپریشن غضب للحق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے کا امن دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ طاقت کا استعمال ایک پیغام ضرور دیتا ہے، مگر تاریخ میں پائیدار کامیابی ہمیشہ حکمت اور بصیرت کے حصے میں آئی ہے۔
یوسف صدیقی