آپریشن غضب للحق

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

آپریشن غضب للحق: اور خطے کا بدلتا منظرنامہ

افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے میں ایک نئی امید نے جنم لیا تھا۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جنگ سے تھکا ہوا افغانستان داخلی استحکام کی طرف بڑھے گا، طالبان افغان عوام کے مفادات کو ترجیح دیں گے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کی بنیاد رکھیں گے۔ مگر وقت کے ساتھ حالات نے وہ رخ اختیار نہیں کیا جس کی امید کی گئی تھی۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا حالیہ بیان اسی تلخ حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا:

"نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریں گے۔ مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیا۔ ساری دنیا کے دہشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا۔ خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے۔

پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھر پور سفارت کاری کی۔ مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے۔ آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی الحمدللہ ہماری افواج اس وقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔ پچاس لاکھ افغانیوں کی پچاس سال سے مہمان نوازی کی۔ آج بھی ہماری سر زمین پہ افغان لاکھوں کی تعداد روزی کما رہے ہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ۔ اب دما دم مست قلندر ہو گا۔ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہوئی۔ ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتے ہیں۔”

اسی تناظر میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا۔ صبح 3 بج کر 40 منٹ، 27 فروری 2026 کو شروع ہونے والے اس آپریشن کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ کابل، پکتیا اور قندھار میں دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کا امکان ظاہر کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کیے گئے۔

یہ اعداد و شمار محض عسکری کامیابی کی تفصیل نہیں بلکہ اس شدت کی نشاندہی ہیں جو اب تعلقات میں در آئی ہے۔ ریاست جب اپنی سلامتی کو براہ راست خطرے میں محسوس کرے تو جواب بھی اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ملک کے اندر جو منظر ابھر کر سامنے آیا وہ بھی قابل غور ہے۔ جیسے جیسے پاکستان کے نوجوان پاک فوج کے حق میں پوسٹس کر رہے ہیں، ویسے ویسے بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز کے ارمان خاک میں ملتے جا رہے ہیں، کیونکہ انہیں ان ڈالرز کا حساب بھی دینا ہوگا جو انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے لیے تھے۔

یاد رکھیں، پاکستانی ایسی قوم نہیں جو وطن سے غداری کرے۔ ہمیں وطن سے محبت کا سبق گھٹی میں ملا ہے۔

اس وقت پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام مجاہد نوجوانوں کو سلام۔

چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے، رنگ، نسل یا سیاسی جماعت سے ہو، انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وطن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔

یہ یکجہتی اس امر کا ثبوت ہے کہ داخلی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی سلامتی پر قوم ایک صف میں کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، سفارتی سطح پر افغانستان کے استحکام کی بات کی، اور خطے میں امن کا داعی رہا۔ مگر جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو لہجہ بھی بدل جاتا ہے اور حکمت عملی بھی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ محاذ آرائی طویل رخ اختیار کرے گی یا طاقت کے اظہار کے بعد سفارت کاری کے دروازے دوبارہ کھلیں گے۔ جنگ کا شور وقتی جوش تو پیدا کر سکتا ہے مگر پائیدار امن تدبر، ذمہ داری اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

آپریشن غضب للحق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے کا امن دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ طاقت کا استعمال ایک پیغام ضرور دیتا ہے، مگر تاریخ میں پائیدار کامیابی ہمیشہ حکمت اور بصیرت کے حصے میں آئی ہے۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔