کبھی کبھار انسان اپنی زندگی کو اس قدر عیش و عشرت میں ڈبو لیتا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد کون سی آفت بسی ہوئی ہے۔ وقت کی دوڑ، ذاتی مصروفیات اور کاروباری الجھنیں اسے اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ وہ اپنی ہی دائرۂ حیات میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے یہ خبر تک نہیں رہتی کہ اس کا پڑوسی کس حال میں ہے، اس کا دوست کس کرب سے گزر رہا ہے اور اس کا حلقۂ احباب کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ زندگی کی رنگینیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ان کے گرد و نواح کے افراد بھی مشکلات میں سانس لے رہے ہیں۔ یوں ایک ایسا حصار وجود میں آتا ہے جس کے اندر تو روشنی ہے لیکن باہر اندھیروں کی لپٹیں ہیں۔
انسان جب رونقوں میں مگن رہتا ہے تو رفتہ رفتہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ کس اذیت میں ہیں۔ اگر وہ کسی ایسے پوش علاقے کا رہائشی ہے جہاں قریبی ہمسائے خوشحال دکھائی دیتے ہیں، تو یہ منظر اس کے ذہن پر ایک دھوکہ طاری کر دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے گویا معاشرے میں ہر طرف آسودگی ہے، جیسے بھوک اور افلاس اب زمین سے رخصت ہو چکے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سماج کے دوسرے گوشوں میں آج بھی غربت، بے روزگاری اور بھوک اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں لوگ ایک نوالے کو ترستے ہیں اور خوشحالی کا سایہ بھی میسر نہیں۔
پاکستان میں حالیہ بارشوں نے ایسی تباہی مچائی ہے جو ملک کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہو۔ جس سمت بھی نظر دوڑائیں، پانی بستیاں بہا لے گیا، کھیت اجاڑ گیا اور زندگیاں نگل گیا۔ یہ قدرتی آفت اپنے پیچھے صرف مٹی اور ملبہ نہیں چھوڑ گئی بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی کمزوری بھی بے نقاب کر گئی۔ ہم چونکہ اکثریت میں مسلمان ہیں، اس لیے ہر افتاد کو محض اللہ کی مشیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ ہمارے اپنے نظام کی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ حکمران طبقے کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور بے حسی نے عوام کو مزید اذیت میں دھکیل دیا ہے۔ لوگ برسوں سے ٹیکس اور ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں صرف وعدے اور تقریریں پاتے ہیں۔ یہ بارشیں زمین پر گرتے ہی ایک سوالیہ نشان بن گئیں: آخر کب تک ہم اپنے ہی سیاسی سیٹ اپ کی نالائقیوں کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے؟
اگر حالیہ بارشوں اور سیلابوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ سب سے بڑی تباہ کاریوں میں شمار ہوں گے۔ لاہور کی مثال لیں تو پارک ویو سٹی ایک ایسا شاہکار ہے جو بظاہر دولت اور ترقی کا مظہر ہے، مگر اپنی جگہ غیر قانونی تجاوزات اور بے اصولیوں کی علامت بھی ہے۔ یہ سوسائٹی ندی نالے اور پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئی۔ 2008 میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک سو پانچ ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی عملی اقدام ہوا نہ کوئی پالیسی بنی۔ آج محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں پانچ ہزار سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے بارشوں کے پانی کو راستہ نہ دیا اور بستیاں ڈوب گئیں، زندگیاں اجڑ گئیں۔
قرآن و حدیث کے آئینے میں بھی یہ حقیقت بالکل واضح ہے۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ کسی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں کے لیے پانی، آگ اور چراگاہ مشترکہ ہیں۔” ایک اور روایت میں ہے کہ اگر ندی کے کنارے بھی وضو کر رہے ہو تو پانی ضائع نہ کرو۔ شریعت نے راستوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے، مگر ہمارے ہاں انہی گزرگاہوں پر سوسائٹیاں تعمیر کر دی گئیں۔ یوں ریاست نے نہ صرف قانونی بلکہ شرعی احکام کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارک ویو سٹی اور اس جیسی دیگر کئی سوسائٹیوں کے باعث ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ سینکڑوں کو ہجرت کرنا پڑی، گھروں کی چھتیں ڈوب گئیں۔ یہ سانحہ صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی شکست کا بھی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ اسباب اور مسائل سب واضح ہیں، لیکن اصلاح تبھی ممکن ہے جب ریاست غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف سخت اور عملی اقدام کرے۔ قانون سازی کو محض کاغذوں سے نکال کر عمل میں لانا ہوگا۔ عوام کو بھی اپنی زمین اور ماحول کے حقوق پہچاننے ہوں گے۔ ترقی کا مطلب صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ فطرت کے راستوں کو بچانا بھی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ محض امدادی اعلانات کے بجائے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائیں، ندی نالوں کو دوبارہ زندہ کریں اور تعمیرات کو قانون و شریعت کے مطابق پرکھیں۔
فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے زمین اور فطرت کو محفوظ بنائیں گے یا اپنی غفلت کے باعث ان کے مستقبل کو بھی ڈبو دیں گے؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کو محفوظ بنائیں یا پھر آنے والی نسلوں کے لیے تباہی ہی ورثے میں چھوڑ جائیں۔
ایم اے دوشی