نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا

جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل

نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا

شکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا
نگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا

دہائی ہے مرے اللہ کی دہائی ہے
کسی نے مجھ سے بھی مجھ کو چھپا کے لوٹ لیا

سلام اس پہ کہ جس نے اٹھا کے پردۂ دل
مجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا

انہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھے
وہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا

یہاں تو خود تری ہستی ہے عشق کو درکار
وہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا

خوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشق
رہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا

نگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نے
اسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا

بڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والے
نظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا

رہا خراب محبت ہی وہ جسے تو نے
خود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا

کوئی یہ لوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہا
تمام ہستئ دل کو جگا کے لوٹ لیا

کرشما سازی حسن ازل ارے توبہ
مرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا

نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ
نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا

جگر مراد آبادی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔