نہ میں درویش ٹھہرا ہوں

محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل

نہ میں درویش ٹھہرا ہوں، نہ دنیا دار ہوں سالک
میسر ہے مجھے سب کچھ، نہ میں نا دار ہوں سالک

کبھی مسجد کے کونے میں، کبھی مے خوار کی صحبت
نہ میں اقرار میں پختہ، نہ میں انکار ہوں سالک

چھپاتا ہوں غمِ دوراں تبسم کے غلافوں میں
تماشائے جہاں سے بھی فقط بیزار ہوں سالک

محبت کی عدالت میں بھی میرا حال یہ ٹھہرا
نہ میں مجرم ٹھہر پایا، نہ میں حقدار ہوں سالک

عجب الجھن میں گزری ہے میری عمرِ رواں آخر
نہ پہنچا ہوں میں منزل پر، نہ میں رہوار ہوں سالک

محمد عمیر سالک

محمد عمیر سالک

نام: محمد عمیر - تخلص: سالِکؔ - تاریخِ پیدائش: 16 فروری 2005ء - شہر: ہری پور، خیبرپختونخوا