نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو

سرفراز آرش کی ایک اردو غزل

نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو مرا یہ ڈر بنا دے گا
ذرا جو سانس لی میں نے کوئی پتھر بنا دے گا

میں اپنے گھر میں رہ کر بھی پتا سمجھا نہ پاؤں گا
کوئی ٹوٹے ہوئے تارے پہ میرا گھر بنا دے گا

میں نم آنکھوں سے اس کے سامنے جاتا ہوں یہ سن کر
جسے وہ دل میں رکھے گا اسے گوہر بنا دے گا

پھر اس نے اجنبیت سے مری دنیا بدل ڈالی
وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا مجھے بہتر بنا دے گا

سفر جیسا بھی ہو رستہ اکیلے طے کرو اس کا
اگر منزل نہ دے گا تو تمہیں رہبر بنا دے گا

مرا اک زخم ہے جو درد کے منصب پہ جب آیا
میں جتنا ہوں مجھے اس سے کہیں باہر بنا دے گا

میں غصہ آج تک یہ سوچ کر پیتا رہا آرش
یہ نسخہ آزمودہ ہے مرے تیور بنا دے گا

سرفراز آرش

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔