سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں: قومی سلامتی خطرے میں ہے
پاکستان کی سلامتی، اس کی نظریاتی سرحدیں اور اس کی مسلح افواج کی عزت و توقیر ہم سب کے لیے ایمان کا حصہ رکھتی ہیں۔ یہ وہ مقدس رشتہ ہے جو نہ صرف ہمیں اپنی مٹی سے جوڑتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی محفوظ بناتا ہے۔ مگر گزشتہ چند مہینوں سے ایک نہایت تشویش ناک سلسلہ پورے ملک میں پھیل چکا ہے—ایک ایسا سلسلہ جو نہ صرف ریاست کے اداروں کو کمزور دکھانے کی کوشش ہے بلکہ دشمن کو ہمارے اندرونی معاملات میں دراڑ ڈالنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ آج ہم ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، ورچوئل رئیلٹی، اور ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے انسان وہ کچھ دکھا سکتا ہے جو حقیقت میں کبھی ہوا ہی نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کی ترقی کے لیے بنی تھی مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ عناصر اسے ملک دشمنی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے خلاف ایک خطرناک مہم گزشتہ دنوں یہ افسوسناک انکشاف سامنے آیا کہ ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ دانستہ طور پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران کی جعلی AI ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں۔ ان ویڈیوز میں نہ صرف پاک فوج کی یونیفارم کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ افسران کو ایسی زبان میں بات کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے جو فوج کے ڈسپلن، وقار اور وقعت کے سراسر خلاف ہے۔ یہ عمل صرف سیاسی منافرت نہیں، بلکہ قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے سنگین جرم ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں پاک فوج کے خلاف بداعتمادی، نفرت اور انتشار پھیلانا ہے۔ دشمن کی خواہش تو برسوں سے یہی رہی کہ وہ ہماری افواج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرے۔ لیکن اب افسوس کی بات ہے کہ یہ کھیل بیرونی ہاتھوں کے بجائے اندر سے کھیلا جا رہا ہے، وہ بھی ان افراد کے ذریعے جو سیاسی جنگ جیتنے کے شوق میں ریاست کے بنیادی ستون کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جعلی ویڈیوز کا مقصد کیا ہے؟ یہ جعلی AI ویڈیوز اور آڈیوز عام سیاسی اختلاف نہیں—یہ ایک سائبر حملہ ہے، یہ قوم کے ذہنوں پر یلغار ہے، یہ پاکستان کے اندر انتشار پیدا کرنے کی شعوری کوشش ہے۔ یہ ویڈیوز بنائی کیوں جا رہی ہیں؟ تاکہ "سیاسی مقاصد” کی تکمیل کیلئے پاکستان کی افواج کو بدنام کیا جائے عوام اور فوج کے درمیان اعتماد کو توڑا جائے نچلے درجے کے سپاہیوں میں بے چینی پیدا کی جائے ادارے کی کمان پر سوالات اٹھائے جائیں سیاسی فائدے کے لیے قومی ادارے کو برا دکھایا جائے یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جو دشمن ممالک پاکستان کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں۔ مگر آج یہ کام پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کر رہے ہیں، جو کہ ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ اور باعثِ شرم ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی فوری توجہ ضروری ہے یہ معاملہ محض ایک سوشل میڈیا ایڈیٹنگ یا سیاسی لڑائی نہیں—یہ سائبر دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ: ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ آئی ایس آئی کا سائبر مانیٹرنگ سیل پاک فوج کے متعلقہ شعبے پی ٹی اے اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور ایسے تمام اکاؤنٹس، پیجز، گروپس اور افراد کو شناخت کر کے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ کیونکہ یہ افراد صرف ویڈیو نہیں بنا رہے—یہ ریاست کی بنیادوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کا اعتماد، فوج کی عزت، اور ملک کی سلامتی کسی سیاسی مفاد سے زیادہ قیمتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ مہم شروع کی ہے، وہ سمجھ لیں کہ ریاست کمزور نہیں ہے۔ پاک فوج دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں سے ہے۔ مگر اس کے باوجود اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس بگڑتی صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ افواج پاکستان — ہماری شناخت، ہمارا فخر ہماری فوج صرف بارڈر پر کھڑی ہوئی کوئی عام فورس نہیں۔ یہ وہ مقدس ادارہ ہے جس نے: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کیں زلزلوں، سیلابوں، اور قدرتی آفات میں پاکستانیوں کو بچایا کشمیر کے محاذ سے فاٹا کے پہاڑوں تک ملک کی حفاظت کی دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا
عوام کا اعتماد ہمیشہ قائم رکھا یہ ادارہ محض ایک یونیفارم یا وردی نہیں… یہ پاکستان کی بقا کی علامت ہے۔ اس وردی کو نشانہ بنانا پاکستان کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ وردی صرف لباس نہیں—یہ ماں کی دعا، شہید کا کفن، اور قوم کا فخر ہے۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی شخص، کوئی لابی یا کوئی بیرونی ایجنڈا اس مقدس رشتے کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے۔ سیاست میں تنقید بھی ہوتی ہے اور اختلاف بھی۔ مگر فوج کے اعلیٰ افسران کی جعلی AI ویڈیوز بنانا، ان کا مذاق اڑانا، انہیں غلط زبان سے پیش کرنا… یہ سیاست نہیں—یہ بغاوت اور جرم ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ سیاست کے شوق میں وہ ایسے راستے پر نہ نکلیں جو ملک کو نقصان پہنچائے۔ اقتدار آئے گا بھی اور جائے گا بھی، مگر قومی ادارے اگر کمزور ہو جائیں تو ملک کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ قوم کا مطالبہ — ایسے عناصر کو گرفتار کیا جائے پاکستانی قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے: جن لوگوں نے پاک فوج کے افسران کی جعلی AI ویڈیوز بنائیں، پھیلائیں یا شیئر کیں—انہیں فی الفور گرفتار کیا جائے۔ کیونکہ:یہ لوگ فتنہ پھیلا رہے ہیں اداروں کو بدنام کر رہے ہیں بیرونی ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں نوجوان نسل کے ذہنوں کو مسموم کر رہے ہیں ملک دشمن پروپیگنڈا کو آگے بڑھا رہے ہیں ایسے افراد کو چھوڑ دینا قوم اور ریاست دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمیں بطور قوم بھی ذمہ دار بننا ہوگا سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر ویڈیو، ہر آڈیو اور ہر تصویر حقیقت نہیں ہوتی۔ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے دنیا کو دھوکا دینا آسان بنا دیا ہے۔لہٰذا یہ ضروری ہے کہ: کوئی بھی ایسی ویڈیو بغیر تصدیق کے آگے نہ بڑھائیں اداروں کے خلاف پروپیگنڈا نہ پھیلائیں دشمن کے بیانیے کو تقویت نہ دیں قومی سلامتی کے معاملے میں حساس رہیں ہر مشکوک اکاؤنٹ کو رپورٹ کریں یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ وطن صرف فوج کا نہیں—ہم سب کا ہے۔ پاکستان کی عزت ہماری ذمہ داری اس نازک وقت میں ہمیں مزید ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔ دشمن ہمارے اندر اختلاف دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ مگر ہم پاکستانی ایک جسم کی مانند ہیں۔ ہمیں دشمن کو کبھی یہ موقع نہیں دینا کہ وہ ہماری صفوں میں دراڑ ڈال سکے۔ پاک فوج ہمارا فخر ہے، ہماری پہچان ہے، ہماری ڈھال ہے۔ ان پر انگلی اٹھانا پاکستان پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے۔آج ہم ایک ہی آواز میں کہتے ہیں: سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں! قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو AI ٹیکنالوجی کے ذریعے پاک فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ جس سے قومی سلامتی خطرے میں ہے۔۔۔ پاکستان دشمنوں کے نرغے میں نہیں بلکہ مضبوط ہاتھوں میں ہے۔اور ان مضبوط ہاتھوں کی عزت ہم پر فرض ہے۔ پاکستان پائندہ باد افواجِ پاکستان زندہ باد
شاہد نسیم چوہدری