مورخین اور آبادیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسانی تہذیب کے آغاز سے اب تک بادشاہوں، آمروں اور متصادم نظریاتی دھڑوں کے ہاتھوں 50 کروڑ سے ایک ارب کے لگ بھگ انسان موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ قدیم روما کی فتوحات اور منگول سلطنت کی خونی یلغار سے لے کر بیسویں صدی کے مشینی مقتول گاہوں تک، انسانی تاریخ اخلاقی ترقی کا کوئی روشن سفر نامہ نہیں، بلکہ پسماندہ، ضعیف اور حریف اقوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک طویل اور سیاہ فردِ جرم ہے۔ صدیوں تک یہ ملوکیت اور سلطنتوں کی ہوسِ زر اور جہانگیری کا شاخسانہ رہی، مگر سب سے گہرا گھاؤ اپنوں ہی کے ہاتھوں لگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم مذہبوں اور ہم وطنوں نے اپنے ہی بھائیوں پر عقیدے، اقتدار اور مطلق العنان حکومت کی آڑ میں وہ ظلم و ستم ڈھائے کہ الحفیظ و الامان۔
تاہم، قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے دور میں اس بربریت کی حدیں اور رفتار کسی حد تک قابو میں تھیں۔ شاید اس کی وجہ زمین پر آبادی کی کمی تھی، یا پھر جنگ و جدل کے ہنگاموں میں بھی انسانی روح کے احترام کا کوئی پوشیدہ احساس باقی تھا۔ روحانیت کا سایہ، روایتی اخلاقیات کا پاس اور مکافاتِ عمل کا خوف ابھی دلوں سے پوری طرح رخصت نہیں ہوا تھا، اسی لیے انسانی جان کی کچھ نہ کچھ توقیر باقی تھی۔ تب کہیں کوئی ایک ناحق خون بھی گرتا، تو لوگ چونک اٹھتے تھے اور بستیوں میں دور دور تک کفِ افسوس ملا جاتا تھا۔ وہ دور اس احساس سے زندہ تھا کہ ایک بے گناہ کا قتل دراصل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انسانی جان کوئی بے روح عدد یا جنگی ریکارڈ کا حصہ نہیں تھی، بلکہ اس کائنات کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی تھی۔
مگر افسوس! آج وہ اخلاقی لنگر ٹوٹ چکا ہے اور خرد کا نام جنون پڑ چکا ہے۔ صرف 1945ء کے بعد قائم ہونے والے نام نہاد عالمی نظام کے سائے میں اب تک ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد معصوم جانیں نسل کشی، مصنوعی قحط اور استعماری مداخلت کی نذر ہو چکی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے مقتول گاہوں سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کی جھلسی ہوئی زمین تک، اور یورپ کی اجتماعی قبروں سے لے کر غزہ اور لبنان میں جاری عصرِ حاضر کے بدترین قتلِ عام تک—جدید دور کی یہ ہولناکی روح کو کانپا دیتی ہے۔ لیکن اس صورتحال کا سب سے بھیانک پہلو صرف لاشوں کے یہ ڈھیر نہیں، بلکہ عالمی برادری کی وہ مجرمانہ بے حسی ہے جس نے اس خونِ ناحق کو ہضم کرنا سیکھ لیا ہے۔ اندھی مادی ترقی، مشینی جنگوں اور کارپوریٹ میڈیا کی شعبدہ بازیوں نے بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے انسانی جان کو اس قدر ارزاں کر دیا ہے کہ اب کسی کا قتل ہونا کوئی المیہ نہیں رہا، بلکہ ٹی وی سکرین کی ایک عارضی پٹی، اخبار کی ایک بے جان سرخی یا سوشل میڈیا کا ایک معمولی اشتہار بن کر رہ گیا ہے جسے لوگ بے خیالی میں سکرول کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کی راکھ پر جب اقوامِ متحدہ اور موجودہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد رکھی گئی، تو امنِ عالم، "عالمی انصاف” اور "انصاف کے علمبرداروں” نے انسانی حقوق کے بڑے پرفریب راگ الاپے۔ مگر تاریخ نے ثابت کر دیا کہ یہ دعوے محض "بغل میں چھری، منہ میں رام رام” کے مترادف تھے۔ 1945ء کے بعد سے انصاف کے ان بلند بانگ نعروں کو ہمیشہ سامراجی فتوحات کے لیے بغل بچے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ عالمی منڈی کے ٹھیکیداروں نے کہیں قحط پیدا کیے، کہیں پوری بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا اور میڈیا مینیجمنٹ اور پروپیگنڈے کے بل بوتے پر ان ہولناکیوں کو یا تو دنیا سے چھپا دیا یا پھر انہیں "مہذب دنیا کی بقا کے لیے ناگزیر قربانی” قرار دے کر سراہا۔
آج جدید تاریخ کا کوئی بھی صفحہ پلٹیں، وہ معصوموں کے خون سے رنگین نظر آتا ہے، اور اس معاملے میں براعظم افریقہ کو استعماری بھیڑیوں اور کارپوریٹ مافیا نے سب سے بڑی مقتول گاہ بنایا۔ الجزائر میں فرانسیسی استعمار "تہذیب کی روشنی” پھیلانے کا بہانہ بنا کر آیا اور 15 لاکھ سے زائد انسانوں کو گولیوں سے بھون دیا، جبکہ مراکش میں فرانس اور اسپین کی مشترکہ جارحیت نے لاکھوں گھر اجاڑے۔ آزادی کا سورج طلوع ہوا تو اسے مغربی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے مہروں کے ذریعے گہنا دیا۔ جمہوریہ کانگو میں پیٹرس لوممبا کو عبرت کا نشان بنا کر وہاں وہ کٹھ پتلی راج قائم کیا گیا جس نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے تانبے، کوبالٹ اور کولتان کی لوٹ مار کا راستہ صاف کیا۔ اس لوٹ کھسوٹ کی بھینٹ چڑھ کر 1990ء کی دہائی سے اب تک 60 لاکھ سے زائد کانگو کے شہری موت کی نیند سو چکے ہیں۔ روانڈا میں دنیا نے آنکھیں بند کر لیں اور صرف 100 دنوں کے اندر 8 لاکھ انسان گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے گئے اور اقوامِ متحدہ تب تک مصلحت کی چادر اوڑھے رہی جب تک ندیاں سرخ نہ ہو گئیں۔ نائجیریا میں برطانوی تیل کمپنیوں کے مفادات کی خاطر بیافرا کی ناکہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد بچے اور بوڑھے بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ صومالیہ اور سوڈان جیسے ممالک کو بحری تجارتی راستوں پر قبضے کی جنگ میں جھونکا گیا، جہاں بیرونی اسلحے نے 15 لاکھ سے زائد انسانوں کو نگل لیا۔ آج بھی دارفور، موزمبیق، مالی اور وسطی افریقی جمہوریہ میں سونا، ہیرے اور گیس بٹورنے کے لیے اپنوں ہی کے ہاتھوں اپنوں کا گلا کٹوایا جا رہا ہے۔
یورپ اور ایشیا کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ چیچنیا کی آزادی کی تڑپ کو کچلنے کے لیے روسی استعمار نے گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا کر 2 لاکھ مسلمانوں کو اجتماعی قبروں میں اتار دیا۔ بین الاقوامی قوانین کا جنازہ تو اس وقت نکلا جب خود یورپ کے دل میں، اقوامِ متحدہ کے متعین کردہ "امن زون” کے اندر، سرب جلادوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کی۔ سربریسا کے مقام پر محض چند دنوں میں 8 ہزار سے زائد مسلم مردوں اور بچوں کو ذبح کر دیا گیا اور ہزاروں ماؤں بہنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، جبکہ ڈچ امن فوج تماشائی بنی اپنی سفارتی بزدلی کا ماتم کرتی رہی۔
پھر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بساط بچھائی گئی، جہاں امریکی سامراج نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” اور "جمہوریت کی بحالی” کا ڈھونگ رچا کر وہ خونی ہولی کھیلی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ افغانستان کو "آزاد” کرنے کے نام پر دو دہائیوں تک بم برسائے گئے اور 2 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو مٹی میں ملا دیا گیا۔ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا سفید جھوٹ بول کر "عراقی آزادی” کے نام پر 10 لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیبیا میں نیٹو کی "انسانی ہمدردی کی مداخلت” نے ایک ہنستے بستے ملک کو لاشوں کے ڈھیر اور کھلے عام لگنے والے غلاموں کے بازاروں میں تبدیل کر دیا، جہاں اب تک 50 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
شام کی بساط پر تو ظلم کی انتہا ہو گئی، جہاں ایک طرف اسد حکومت اپنے ہی شہریوں پر کیمیکل اور بیرل بم برسا رہی تھی، تو دوسری طرف روس، امریکہ اور علاقائی مداخلت نے اس آگ کو وہ ہوا دی کہ 6 لاکھ شامی لقمہ اجل بن گئے اور آدھا ملک ہجرت پر مجبور ہو گیا۔ یمن پر مسلط کی گئی جنگ نے 4 لاکھ انسانوں کو قحط اور بمباری سے مار ڈالا، جسے خود اقوامِ متحدہ نے صدی کا بدترین انسانی بحران قرار دیا، مگر مغرب کے اسلحے کے کارخانے چوبیس گھنٹے چلتے رہے۔ مصر میں جب عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کا تختہ الٹ کر آمریت مسلط کی گئی، تو رابعہ العدویہ چوک پر ایک ہی دن میں ہزاروں پرامن شہریوں کا خون بہا دیا گیا اور عالمی طاقتوں نے "استحکام” کے نام پر اس ظلم کو آشیرباد دی۔ دوسری طرف، وادیِ کشمیر میں گذشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی ریاستی دہشت گردی 1 لاکھ سے زائد کشمیریوں کا خون چاٹ چکی ہے، مگر نئی دہلی کی بڑی تجارتی منڈی کے سامنے "اہلِ مغرب” اندھے، بہرے اور گونگے بن چکے ہیں۔
لیکن ان سب سے بڑھ کر، انسانیت کا سب سے رستا ہوا ناسور غزہ، فلسطین اور لبنان کی سرزمین ہے، جہاں صیہونی ریاست نے امریکی ویٹو، مغربی اسلحے اور سفارتی تحفظ کی چھتری تلے مظلوموں کی بستیوں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ یہ وہ واحد نسل کشی ہے جو دنیا کی سکرینوں پر لائیو دکھائی جا رہی ہے اور ظالم اسے "حقِ خود ارادیت” کا نام دے رہا ہے۔ اب تک لاکھوں فلسطینی شہید اور معذور ہو چکے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ معصوم بچے اور خواتین ہیں۔ پورا غزہ ملبے کا قبرستان بن چکا ہے اور اب یہی صیہونی آگ لبنان کے آنچل کو جھلسانے لگی ہے، مگر دنیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
اس ملوکیت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ان تباہ حال ملکوں میں اکثر اپنے ہی حکمران، کٹھ پتلیاں اور سیاسی دھڑے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں، اور عالمی چوہدری پسِ پردہ اپنی کامیابی پر مسکرا رہے ہیں۔
آج دنیا کی یہ تمام اقوام اور ان کے بے ضمیر حکمران مرغوں کے ایک عالمی ڈربے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جب قصاب ڈربے میں ہاتھ ڈال کر کسی ایک مرغے کو ذبح کرنے کے لیے پکڑتا ہے، تو وہ شکار چند لمحے پھڑپھڑاتا ہے، چیختا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ باقی پورا ڈربہ اس ہولناک منظر کو دیکھنے کے باوجود خوف اور لالچ کے مارے سر تک نہیں اٹھاتا۔ وہ سب گردنیں جھکائے صیہونی لابیوں، استعماری طاقتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈالے ہوئے مفادات کا دانہ چگنے میں مگن رہتے ہیں۔ کسی ایک حکمران میں اتنی غیرت اور جرات نہیں کہ وہ قصاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے، کیونکہ سب کو اپنی بقا اور اقتدار کی پڑی ہے۔ معاشی امداد، آئی ایم ایف کے قرضے، سیاسی پناہ اور کارپوریٹ سرمایہ وہ افیون کا دانہ ہے جس نے دنیا کی اخلاقی ریڑھ کی ہڈی کو مفلوج کر دیا ہے۔
دانہ ڈالنے والے ان عالمی آقاؤں کی پکڑ اتنی سخت اور بے رحم ہے کہ اگر اس جھنڈ میں سے کوئی ایک غیور لیڈر یا ملک سر اٹھانے کی جرات کرے یا اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، تو اسے فوراً نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ معاشی پابندیوں، اندرونی خلفشار، سیاسی تنہائی یا براہِ راست فوجی چڑھائی کے ذریعے اس کا وہ حشر کیا جاتا ہے کہ باقی پورا جھنڈ سہم کر دوبارہ دانے پر گر پڑتا ہے۔
صیہونی نیٹ ورکس، اسلحہ ساز مافیا اور کارپوریٹ اجارہ داروں نے انسانیت کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ایک انسان کے خون کی قیمت تیل کے ایک بیرل، اسلحے کے ایک معاہدے یا کمپنیوں کے سہ ماہی منافع سے بھی کم ہو چکی ہے۔ یہ جدید دنیا کا وہ مکروہ چہرہ ہے جہاں مفادات کے دانے کی لت نے انسان سے احساسِ زیاں بھی چھین لیا ہے۔ جب تک یہ عالمی برادری ذاتی مفاد کے اس دانے سے نظریں اٹھا کر قصاب کے ہاتھ کو نہیں روکے گی، تب تک اس عالمی ڈربے کا ہر مرغا باری باری اپنی موت کا انتظار کرتا رہے گا اور خاموشی سے مقتل کی طرف بڑھتا رہے گا۔
پروفیسر اکرم ثاقب