موج رود غم ہستی کو سہارا کر کے
لوٹ پائے نہ کناروں سے کنارہ کر کے
اس نے ترتیب دیا آتشِ ہجراں کا طلسم
پھر ہمیں جھونک دیا اس میں اشارہ کر کے
حسن بخشا انہیں ناقابل تردید کیا
اس کی آنکھوں نے مناظر کو گوارہ کر کے
راہ دنیا سے بھی اور عشق کے صحرا سے بھی
لوٹ آیا ہوں خسارے پہ خسارہ کر کے
علی کوثر