محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک

ڈاکٹر عظمی نورین کی ایک اردو تحریر

محسن خالد محسن ؔسے میری ملاقات غالباً 2015 کے آخری مہینے یعنی دسمبر میں گجرات میں این سی بی اے سب کیمپس گجرات میں ہوئی تھی۔ میں ڈاکٹر انجم یوسف کے ساتھ گجرات کیمپس میں ایم فل اُردو کے لیے جایا کرتی تھی۔ ڈاکٹر ساجد محمود ڈار کے ہمراہ ایک لمبے بالوں والا اُداس سا لڑکا ہمارے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ ہم فیلوز چائے پینے میں مصروف رہے ۔ اس لڑکے کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ ڈاکٹر انجم یوسف نے محسن کا تعارف ہم سے یوں کروایا کہ یہ ساجد محمود ڈار کے اچھے دوست ہیں اور ہمارے کلاس فیلو ہیں ۔انھوں نے ایم فل اُردو میں داخلہ لیا ہے اور اب ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری کی نگرانی میں ایم فل کا مقالہ لکھ چکے ہیں اور یونی ورسٹی میں جمع کروانا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری کے سینکڑوں شاگرد تھے جو ایک یونی ورسٹی سے دوسری یونی ورسٹی مائیگریشن کروا کے آیا جا یا کرتے تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جہاں انھیں مشکل پیش آتی تھی،ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کہ میر ےپاس یہاں آجاؤ میں تمہیں نکلوا دوں گا اور ہوتا بھی ایسے ہی تھا کہ خوشامد و طلب و جبر کے مارے شاگرد ڈاکٹر صاحب کی راہنمائی میں دن رات ایک کر کے مقالہ لکھتے اور جمع کروا کے واویا دے کر ڈگری لے جاتے۔

ہم سب بھی اسی اُمید پر یہاں اتفاقاً جمع ہو گئے تھے کہ ڈاکٹر صاحب ہمیں نکلوا دیں گے۔ ان دنوں این ٹی ایس کے ٹیسٹ کا بڑامسئلہ ہوا کرتا تھا یعنی یہ ٹیسٹ اتنا مشکل تھا کہ مشکل سے کوئی آرٹس کا طالب علم پاس کر پاتا۔سینکڑوں طالب علم اپنا مقالہ یونی ورسٹی جمع کروا کے ٹیسٹ پاس نہ کرسکنے کی وجہ سے ڈگری سے محروم رہ گئے۔ ایچ ای سی نے یونی ورسٹیوں کو مقامی ٹیسٹ لینے کی اجازت دی تو ہم پہلی کوشش میں کامیاب ہو گئے کہ یونی ورسٹی نے اردو کے حصے کو پچاس فیصد کر دیا تھا اس لیے ہم نے پہلی کوشش میں یہ ٹیسٹ پاس کر لیا۔

محسن خالد محسن ان دنوں عجیب و غریب وضع قطع کا حامل لڑکا تھا۔ انتہائی خاموش اور سنجیدہ لڑکا یعنی اسے دیکھ کر کچھ کچھ محسوس ہوتا تھا جسے کوئی نام نہ دیا جاسکتا تھا۔ ڈاکٹر انجم یوسف نے چائے کی دعوت دی تو کہنے لگا کہ میں روزے سے ہوں۔ ہم نے حیران ہو کر کہا کہ تم روزے سے ، لاہور سے گجرات کا فاصلہ اتنا ہے کہ نفلی روزہ نہ رکھنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ کہنے لگا میں نفلی روزہ نہیں رکھتا میں اپنے نفس پر جبر کرتا ہوں کہ یہ مجھے بھوک کی شدت سے نڈھال کرنے کی سازشیں کرتا رہتا ہے اور میں اس کے آگے زیر ہونے والا نہیں ہوں۔ ہم یہ منطقی فلسفہ سُن کر مزید حیران ہوئے ۔ مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوا کہ یہ بندہ عام نہیں ہے اس کے پاس ضرور کچھ ایسا ہے کہ جو کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ اس سے کچھ نہ کچھ مل سکتا ہے۔

محسن کو میں نے اپنا سرسری تعارف کروایا تو محسن نے کوئی خاص توجہ نہ دی ؛ نیم مسکراہٹ چہرے پر بکھیرے ساجد محمود کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کے بعد مہینوں محسن سے ملاقات نہ ہوئی ۔ ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری صاحب نے ہم سب کو بلا یا اور کہا کہ اپنے ٖ اپنے ڈینفس کی تیاری کر لیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی خوبی یہ تھی کہ سب کو برات میں شرکت والے دعوت ناموں کی طرح بلایا کرتے تھے اور ہم جو ق در جوق پہنچ جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر انجم یوسف کو دو ہزار دیا کرتے اور سب کے لیے کھانا آجایاکرتا تھا۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر انجم سے پوچھا:بھائی! اتنے کم پیسوں میں بیس پچیس بندوں کا کھانا کیسے آتا ہے ،تو وہ مسکرا دئیے اور کہنے لگے کہ بقایا پیسے میں اپنی جیب سے ڈالتا ہوں۔ میں حیران ہوئی کہ یہ بندہ کیسے سب مینج کرتا ہے ۔ ڈاکٹر انجم کی دریا دلی اور فیاضی سب میں مشہور تھی اور یہ انسان اب بھی ایسا ہی ہے۔

محسن کے ساتھ دوسری ملاقات یوں ہوئی کہ میں اپنا لیپ ٹاپ ساتھ لائی تھی مگر وہ چل نہیں رہا تھا۔ میں نے انجم بھائی سے کہا کہ اسے دیکھیں تو وہ کسی اور کام میں مصروف ہوگئے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے محسن سے کہا کہ آپ کو لیپ ٹاپ چلانا آتا ہے ذرا اسے دیکھیں یہ چل نہیں رہا۔ محسن نے کہا کہ جی میں دیکھتا ہوں،یہ کہ کر انھوں نے لیپ ٹاپ کو ایک نظر دیکھا ،پتہ نہیں کیا کِیا کہ لیپ ٹاپ چلنے لگا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اسے ٹھیک کروالیں اور یہ والے سوفٹ وئیر انسٹال کروالیں پھر یہ تنگ نہیں کرے گا ۔ محسن نے مجھے کمپوز کرنا اور پرنٹ کرنا سکھایا اور یہ بھی کہا کہ اپنا پرنٹر خود خریدیں تاکہ پیسوں اور وقت کا ضیائع نہ ہو سکے۔ مجھے اس لڑکے کی باتیں دل میں گھر کرتی دکھائی دیں ۔میں نے کہا کہ میں جہاں رہتی ہوں وہاں ایسی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور لاہور میں کوئی واقف نہیں کہ منگوا سکوں ۔ محسن نے کہا کہ میں آپ کو پرنٹر لاہور سے بھیج دوں گا آپ مجھے پیسے بھجوا دیجیے گا۔ یہ لمحہ میرے بڑا حیران کُن تھا۔ میں پہلے ہچکچائی پھر تھوڑی شرمندہ ہوئی اور پھر کچھ سوچ کر کہا کہ آپ رہنے دیں میں یونہی گزارا کر لوں گی۔

محسن جب کمرے سے اُٹھ کر کسی کام سے باہر گیا تو میں نے ساجد ڈار سے پوچھا کہ یہ تمہارا دوست کیسا ہے ۔ اُس نے کہا کہ میں اسے تین سال سے جانتا ہوں ،اچھا لڑکا ہے۔ چائے بہت پیتا ہے ،شاعری بھی کرتا ہے، عجیب وغریب خیالات رکھتا ہے، باتیں کرتا ہے تو سماں باندھ دیتا ہے لیکن ابھی کسی تلاش میں ہے،پتہ نہیں کیا چاہتا ہے، کبھی کبھی مجھے عجیب سا لگتا ہے،آج کل اس پر مذہب کا دورہ پڑا ہوا ہے، روح،نفس، موت، کسک، دُنیا، فلسفہ، تصوف ، علم الدنی ، حقیقت معرفت ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو میرے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔

میں نے ساجد سے کہا کہ یہ بندہ مجھے تھوڑ امختلف لگتا ہے یعنی اس کے ہاں علم کا ایک سمندر چھپا ہوا ہے یعنی یہ کہیں اور ہی اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ساجد نے کہا بالکل میں بھی اس کےبارے میں ایسے ہی خیالات رکھتا ہوں۔ ان دنوں ہم سبھی دوست اپنی اپنی زندگی میں انتہائی مصروف تھے اور روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ابھی ہم ایم فل تھے اور کسے علم تھا کہ ہم ڈاکٹر بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو بہترین رزق سے نوازے گا ۔

محسن نے کوئی ایک مہینہ بعد ہونے والی ملاقات میں مجھے کہا کہ میں آپ کا پرنٹر ساتھ لے آیا ہوں مجھے اتنے پیسے دے دیں اور ساتھ لے جائیں۔ میں نے کہا ،آپ کا بہت شکریہ،آپ نے یہ تکلیف کی،کہنے لگا کہ یہ تو چلتا ہے، دوست اسی لیے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور پھر ہم ہر کسی کی مدد نہیں کرتے۔یہ دل کی زبان ہے اور احساسات ہیں جو آواز دیتے ہیں اور انسان لبیک کہ دیتا ہے۔ محسن نے مجھے پرنٹر انسٹال کرنے اور پرنٹ کرنے کا سارا طریقہ سمجھایا اور میرے ساتھ گاڑی میں پرنٹر رکھوا دیا۔ یہ پرنٹر گھر آکر مجھ سے چلا نہیں کہ مجھ سے اتنا مشکل کام نہ ہوسکا ۔میں نے اس کا نمبر تو لیا ہی نہیں تھا ۔میں نے انجم بھائی سے کہا کہ مجھے محسن کا نمبر چاہیے مجھ سے پرنٹر نہیں چل رہا۔ انھوں نے مجھے نمبر دے دیا،اس کےبعد محسن سے کسی نہ کسی حوالے سے بات ہو جاتی تھی۔

مجھے محسن سے بات کر کے یوں لگتا جیسے یہ بندہ مجھے بہت پہلے سے جانتا ہے اور میں اسے برسوں بلکہ جنموں سے جانتی ہوں۔ ہمارے ابا جب ولایت سے برسوں بعد گھر لوٹے تو ان کی طبیعت میں تصوف کا میلا ن بہت بڑھ چکا تھا۔ ان کی باتیں سن کر لگتا جیسے ابا دُنیا سے بیزار ہو چکے ہیں اور کسی تلاش میں ہیں جو انھیں بے چین کیے ہوئے ہے۔ یہی بے چینی میں نے محسن کے ہاں دیکھی تو مجھے لگا کہ اس لڑکے اور میرے ابا میں ذہنی قربت بہت زیادہ ہے ۔ اسی قربت کی وجہ سے مجھے محسن میں مزید دلچسپی پیدا ہونا شروع کی ۔مجھے یہ جاننے کی چاہ تھی کہ پچیس چھبیس برس کے لڑکے اور پینسٹھ برس کے ابا میں ایسی کیا قربت ہے کہ دونوں کی باتوں اور تصورِ زندگی میں بہت زیادہ مماثلت ہے۔

وقت گزرتا رہا اور ہماری باتیں طول پکڑتی گئیں۔ مستقل روزگار نہ ہونے کی وجہ سے اُداسی ہر انسان کے ہاں دکھائی دیتی ہے اور یہ اچھی چیز بھی ہے کہ انسان کو تھکاتی نہیں بلکہ چلائے رکھتی ہے۔ 2015 میں لاہور میں لیکچرار کا تحریری امتحان دینے کے لیے میں ساجد کے ساتھ ڈی پی ایس ماڈل میں گئی تو وہاں محسن سے مدت بعد ملاقات ہوگئی ۔ محسن نے بتایا کہ وہ آئی بی ایل کالج فیصل ٹاؤن سے اب ڈی پی ایس ماڈل ٹاؤن میں ماہر مضمون اُردو کی حیثیت سے منسلک ہو گیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ اس نے بتایا میں نے بھی لیکچر شپ میں اپلائی کیا ہے لیکن تیاری کچھ خاص نہیں ہے۔

2015 میں محسن ساجد اور میں تینوں بدرجہ اعلیٰ فیل ہوئے ۔اس کے بعد ہم نے اپنا ایم فل مکمل کر لیا۔ میں نے سیالکوٹ میں پنجاب گروپ کو جوائن کر لیا اور ساجد نے گجرات میں کِپس کالج جوائن کر لیا۔ انجم بھائی ایف بی آر میں مستقل ملازم تھے اس لیے یونیورسٹی آتے جاتے راستے کا خرچ یعنی کھانا پینا او رہلہ گلہ سب انھیں کے سپرد ہوتا حتیٰ کہ کتابوں اور اسائن منٹ کی تیاری اور پرنٹنگ بھی انھیں کے ذمہ ہوتی اور پارٹی الگ سے ان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی اور وہ کمال فراخ دلی سے قبول کر لیتے اور کبھی ماتھے پر شکن نہ ڈالتے کہ انھیں دوستوں کو کھلا نا پلانا اور ان کی مدد کرنا اچھا لگتا تھا۔

انھیں دنوں محسن کا پہلا شعری مجموعہ”کچھ کہنا ہے” شائع ہوا تو ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ اس مجموعے میں زیادہ تر غزلیات تھی اور یہ پہلا مجموعہ ہونے کی وجہ سے کچی پکی سی تھیں لیکن شاعری بحرحال ضرور تھی۔ کچھ اشعار تو بہت کمال کے تھے اور یہ پتہ دیتے تھے کہ اس لڑکے میں شاعر بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

محسن میں ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ شاعری کرنے کے باوجود کبھی خود کو بطور شاعر کسی کے سامنے پیش نہیں کیا۔ جب کبھی کلاس میں شاعری کا ذکر ہوتا اور فعلن فعلن فعلن کی بات ہوتی تو یہ خاموش ہو جاتا اور اصرار کرنے پر بھی شعر نہیں سناتا تھا۔ کہتا تھا کہ میں شاعری اپنے لیے کرتا ہوں نہ کہ سنانے اور مشہور ہونے اور داد لینے کے لیے۔ مجھے اپنا دُکھ اور مستقبل شاعری میں قید کرنا اچھا لگتا ہے کہ لفظ امانت کو بہت اچھی طرح سنبھال لیتے ہیں جبکہ کان ادھر کی بات اُدھر نکال دیتے ہیں اس لیےمیں کانو ں پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہ ہی ان سے توقع رکھتا ہوں۔

اس طرح کے فی البدیہ جملے اکثر محسن سے سننے کو ملتے تو اچھا لگتا کہ یہ بندہ روایتی سوچ کامالک نہیں ہے اور بہت آگے جانے والا ہے۔میں نے ایم فل میں تروینی کی صنف پر مقالہ لکھا، ساجد نے محسن نقوی کی شاعری میں تلمیحات پر مقالہ لکھا جبکہ انجم بھائی نے پریم چند کے افسانوں میں طنز کے حوالے سے کام کیا۔ اس کے علاوہ ہمارے کئی مہربان دوست تھے جو اس کلاس میں موجود تھے جو اب پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں ۔ان سے رسمی ملاقات رہی لیکن ہم چاروں کی دوستی کا سلسلہ آج تک برقرار ہے۔

ایم فل کرنے کے بعد ہم ایک دوسرے سے الگ ہوگئے اور اپنے اپنے روزمرہ اشغال میں مصروف ہو گئے۔2016،2017 اسی طرح گزر گیا۔ ایک دوسرے سے ٹیلی فونک رابطہ رہا لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔2018 میں ہم تینوں نے ایک بار پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن میں تحریری امتحان میں شمولیت اختیار کی جس میں ساجد اور میں ناکام رہی جبکہ محسن بطور لیکچرار منتخب ہو کر ڈسکہ (سیالکوٹ) میں گورنمنٹ گریجواٹ کالج ڈسکہ میں آگیا۔ محسن کی اس کامیابی نے ثابت کر دیا کہ یہ بندہ اس لائق تھا کہ اس نے محض چوبیس سیٹس میں انتہائی مشکل تحریری امتحان اور انٹرویو میں کم نمبروں کے باوجود اچھی پوزیشن حاصل کی اور لیکچرار منتخب ہو گیا۔

مجھے اس بات کی خوشی تھی لیکن اپنی ناکامی کا رنج بھی تھا جو چند دن بعد ذہن سے محو ہو گیا۔ محسن کی ڈسکہ میں آمد سے ایک بار پھر ہم چاروں کی ملاقات کا سلسلہ از سر نو بحال ہوا۔ ڈسکہ میں بڑے علم و فضل کے لوگ موجود ہیں جن میں پروفیسر اسحاق مرحوم ،پروفیسر عارف لاوری، پروفیسر بنیا مین، پروفیسر سید وقار شاہ، پروفیسر بھٹی لابرئرین،ڈاکٹر عاصم بخاری، ڈاکٹر شام بخاری،پروفیسر شاہد شاز،پروفیسر انور وغیرہ سے ہماری ملاقات بہت یادگار رہی۔

اس کے علاوہ ماجد بھائی نے اپنی کتابوں کی دکان(ڈسکہ کتاب میلہ) میں ہمارے لیے ایک جگہ مخصوص کر رکھی تھی جہاں ہم مہینے میں ایک دفعہ بیٹھ کر ادبی گفتگو کیا کرتے تھے ۔ کاشف بھائی ہمارے ایم فل کے مقالے کمپوز کیا کرتا تھا اور مبشر بھائی خاندانی رئیس ہونے کے باوجود مزاج درویشانہ رکھتا تھا اور اکثر ان کے محل نما گھر میں ہم گھنٹوں ادبی گفتگو میں مگن رہتے اور وقت گزرنے کا احساس نہی نہیں ہوتا تھا۔

میں نے 2019 میں گورنمنٹ ویمن کالج سیالکوٹ یونی ورسٹی بننے کے بعد نکلنے والی اُردو کی لیکچرر سیٹ کے لیے اپلائی کیا تو اللہ کے فضل سے میری سلیکشن ہو گئی ۔ مجھےبہت خوشی ہوئی کہ گھر کے قریب مستقل روزگار کا سلسلہ چل پڑا۔ میری وجہ سے خالی ہونے والی سیٹ پر ساجد ڈار کو پنجاب کالج میں جگہ مل گئی اور ساجد نے مجھ سے زیادہ محنت کر کے اپنا نام بنایا ۔ 2020 میں میں نے گورنمنٹ ویمن یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی اُردو میں داخلہ لے لیا جبکہ محسن نے ناردرن یونی ورسٹی اور ساجد نے گیریژن یونی ورسٹی لاہور اور انجم بھائی نے قرطبہ یونی ورسٹی ،ہزارہ میں داخلہ لے لیا۔

آگے پیچھے ہم نے کامیابی سے پی ایچ ۔ڈی کی ڈگریاں وصول کیں اور الحمد اللہ اب ہم چاروں ڈاکٹر ہیں۔ 2015 سے 2026 تک ہمارا سفر آج بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ پہلے دن سے تھا۔ زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔کچھ یاد رہ جاتے ہیں اور کچھ بھول جاتے ہیں اور کچھ زبردستی بھلا دئیے جاتے ہیں۔

میری زندگی بھی نشیب و فراز کا ایک عجب سفر لیے ہوئے ہے۔ جب شعور سنبھالا تو والدین کو پریشانی اور مالی تنگ دستی میں دیکھا۔ بھائی اور بہنوں کو پڑھانے سے لے کر ان کی شادیاں کرنے کے بعد مزید سیٹل کرنے کی ذمہ داری میرے کندھوں پر رہی۔ والد کی طویل بیماری نے کمر توڑ دی لیکن ہمت نہیں ہاری۔ بہنوں کے اچھے مستقبل اور بھائی کے عزت دار ظرف کے لیے اپنی خواہشو ں کو قربان کرنا بہت معمولی لگا ۔

کبھی کبھی انسان اپنی قربانی دوسروں سے توقع کرتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔آپ جتنے اچھے ہوتے ہیں اتنے ہی قربان گاہ کے لائق سمجھے جاتے ہیں۔ محسن کی زندگی میں بھی کچھ ایسی ہی قربانیاں تھیں جو اسے ادا کر نا تھیں۔ اس بندے نے اپنی ذات کو ہمارے سامنے مٹایا ہے اور کوہ ِ گراں ایسے رنج اُٹھائے ہیں۔ پہلی شادی کی ناکامی کا دُکھ، اپنے شہر سے دوری کا دُکھ، اپنوں کی بے وفائی کا دُکھ،زمانے کی بے توقیری کا دُکھ، اُولاد سے خودساختہ محرومی کا دُکھ، شدید مالی نا آسودگی کا دُکھ، شعوری کی پختگی کا دُکھ، قرب و جوار کے منفی اور متنفر ماحول کادُکھ، اپنے آپ سے ناراضی کا دُکھ، زمانے کی چال اور چلن کا دُکھ، یعنی آلام در آلام نے اس شخص کے دل و روح کو اس قدر زخمایا ہے کہ عام انسان ایسی آزمایشوں سے پناہ مانگتا ہے۔

محسن کو ڈاکٹر محسن خالد محسن بنتے ہم نے بھی دیکھا ہے اور اس کے قرب وجوار میں رہنے والے اور ساتھ پیدا ہونے والوں نے بھی دیکھا ہے لیکن اس کی شخصیت کے تواتر سے بدلتے اطوار اور رجحانات کو جس انداز میں ہم نے دیکھا ہے وہ دوسروں کی نسبت زیادہ اہم اور متعلقہ ہے۔ محسن کے تیسرے شعری مجموعے” ت لاش” میں 2015 سے 2025 کے دس سالہ سفر کی روداد موجود ہے۔ یہ تلاش ایک عام شخص کے لیے معمولی اور سطحی ہوسکتی ہے لیکن میرے لیے اس مجموعے کی ایک ایک سطر میرے سامنے کی گزری ہوئی داستان ہے۔ میں نے محسن کو ہر طرح کے حالات میں ڈٹے رہنے والا مزاحمت کار دیکھا ہے۔ مسلسل ناکامیوں کےباجود حوصلہ نہ ہارنا، ہر طرح کے ظلم کو گوارا کرلینا، اپنوں کی منافرت کا مسلسل شکار رہنا اور اپنا آپ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جواب میں ملامت وصول کرنا آسان کام نہیں ہے۔

محسن کے چوتھے شعری مجموعےؔ”محبت معاہد ہ نہیں” کے مطالعے سے مجھے علم ہوا کہ یہ شخص واقعی ہر چیز کو مختلف اندا ز میں دیکھتا ہے۔ اس کی نظموں کے عنوانات بھی نئے ہیں اور اس میں بیان ہونے والی کیفیت بھی مختلف اور نومولود ہے۔ یعنی محسن نے اپنا ڈکشن خود متعارف کروایا ہے۔ "ت لاش” کی نظموں کے عنوانات” راہ عشق میں، بے مروت تنہائی، درد آشنا، موت مہربان لگتی ہے، قہوہ خانے ،بیگانگی کا فریب، تماشائی، انا الحق کی بازگشت، گمان کا یقین، دیدار کی خریات، بے وقت کی اذان، کتنے برس بیت گئے” وغیرہ سبھی نئے موضوعات ہیں۔ محسن کے ہاں روایت کی پیروی موجود ہے لیکن جدت اور تازگی نے اس عنصر کو چھپا دیا ہے۔

محسن کے ہاں تلاش کا عمل ت لاش بن کر رہ گیا ہے۔ ن م راشد کے ہاں لفظ کی اس تکنیکی تشکیل کا عمل دکھائی دیتا ہے اس کے بعد ایک وسیع خلا موجود تھا جسے محسن نے بھرا ہے۔ محسن کے ہاں ہر چیز میں جدت،تنوع، بیگانی، آشنائی، بغاوت،تحریک،ردِعمل اور جنونی نظارت دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح "محبت معاہدہ نہیں” میں محبت کے قدیم تصور کو جدت سے ہم آہنگ کر کے دکھایا ہے۔ محسن کے ہاں پہلی دفعہ محبت کو معاہدے سے آزاد کرنے کی بات کی گئی ہے۔

محسن نے محبت کو روایتی تصور سے نکال کر آزادی کی فضا میں نمو پانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ محسن نے "کچھ کہنا ہے "اور” دُھند میں لپٹی شام” میں غزلیات کو ترجیح دی تھی لیکن اب محسن پوری طرح نثری نظم لکھتا ہے۔ اس وجہ وہ خود”محبت معاہدہ نہیں” کے پیشِ لفظ میں بیان کرتا ہے کہ میں خیال اور تجربے کا شاعر ہوں ،مجھے زبردستی شاعری کرنا نہیں آتی جو خیال مجھ پر وارد ہوتا ہے اور جس تجربے سے میں ذاتی طو ر پر گزرتا ہوں اُسے ویسے ہی بغیر شعری لوازمات کے لکھ دیتا ہوں یعنی جو ذہن و وجود پر نازل ہوا وہ کاغذ پر منتقل ہوگیا۔ یہ سادہ اندازِ تحریر اتناآسان نہیں ہے جتنا دکھای دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر نے خود کو شاعری کے اوزان و بحور اور دیگر لوازمِ شعریات سے بہت دور رکھا ہوا ہے ۔ شاعر کے ذہن میں جو خیال پکتا ہے ویسے ہی ڈال سے اُتر کر کاغذ میں نقش ہو جاتا ہے اسی لیے اس خیال میں آورد کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جس تجربے سے شاعر گزرا ہے اُسے بھی ویسے ہی لکھ دیا ہے اس لیے تجربے میں مزید مشاہدے کی موجودگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صلاحیت ایک اصل اور فطری شاعر میں ہوتی ہے اس لیے میں محسن کو اصیل اور فطری شاعر مانتی ہوں ۔

محسن کی نثری نظموں میں ہر طرح کے موضوعات کو جگہ ملی ہے۔ محسن نے روایتی موضوعات کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شاعر ہر وقت شاعر رہتا ہے اور کوئی کام کرنے کو اس کامن نہیں چاہتا۔ کہولت کا یہ عنصر محسن کے ہاں بالکل دکھائی نہیں دیتا۔ محسن نے عملی زندگی اور شاعری سے بالکل الگ رکھا ہوا ہے۔ مالی تنگ دستی کے باوجود لاہور سے نوشہرہ شہر مسلسل 2015 سے2025 یعنی دس برس جانا آسان نہیں ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی فیس اور کرائے کی مد میں جانے والی رقم کا اندازہ مہنگائی کے اس دور میں آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں ۔

محسن صرف شاعر ہوتا تو مزید تعلیم کا حصول کسی نظم میں یاس کے ساتھ ایک حسرت کی صورت رقم ہو جاتا لیکن محسن نے اپنا خواب پورا کیا اور پنجاب بھر کے اُمیدواروں کے مقابلے میں لیکچرار منتخب ہوا اور شاعری کے علاوہ نثر میں بھی درج بھر کے قریب تصانیف تحریر کیں۔ ہوتا یہ ہے کہ شاعر خود کو ہر طرح کے کام سے آزاد سمجھتا ہے اور یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ وہ دُنیا میں صرف لفظوں سے کھیلنے کے لیے آیا ہے اور زمانے کی دوڑ میں شامل ہونا ایک بے وقوفی ہے اور جو میسر نہیں ہے اُس کی چاہ نہ کرے اور جو مل رہا ہے اُسی پر اکتفا کرے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے شاعر کے اندر شہرت کا لالچ اسے انسانی درجے سے نیچے گرا دیتا ہے۔ لفظوں سے کھیلتے ہوئے یہ انسانوں کے دل اور احساسات سے کھیلنے لگتا ہے ،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شاعری چلتی نہیں اور زندگی رُک جاتی ہے اورناکامی چہرے کا تعارف بن جاتی ہے اور قنوطی مضامین کا انبوہ گلے کاپھندہ بن جاتا ہے ۔

محسن کے ہاں مذکور کیفیت کی ترجمانی کا تصور بھی نہیں ہے ۔ "محبت معاہدہ نہیں” میں محسن نے ایک الگ جہان کی تصویر کشی کی ہے۔ اس مجموعے کی نظموں میں اُن موضوعات پر قلم فرسائی کی گئی ہے جو عام طور پر اردو شاعری میں ڈسکس نہیں ہوئے یعنی خانگی زندگی یعنی میاں بیوی کے درمیان ہونے والے تضادات و فکری اختلافات اور سانحات کا بیان جسے شاعری کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ محسن کی نظموں کے عنوان براہ راست خانگی زندگی کی ترجمانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مثال کے طور پر”کیا فرق پڑتا ہے، میں چلتا جا رہا ہوں،قیدی عورتیں،وہ تم خود ہو،حاملہ ہاتھ، عورت،بچہ اور ماں، میں تمہارے ساتھ رہوں گی، ضد سے لپٹی محبت،چکی کے پاٹ، برابری کا وعدہ،تم ساتھ چلو گی”وغیرہ میں نسائی جذبے کی ترجمانی کا بھر پور انداز میں اظہار ملتا ہے۔ محسن کی شاعری میں نسوانیت کا اظہار بہت کھلے انداز میں ملتا ہے یعنی اس شخص نے ایک ناکام مرد کے درد کے ساتھ ایک مظلوم عورت کے جذبات و احساسات کو بھی نظموں میں منظوم کیا ہے۔ یہ ایک الگ تصورِ شاعری ہے جو روایتی شاعری میں دکھائی نہیں دیتا۔

محسن شاعر کے علاوہ ایک محقق ،نقاد اور کالم نگار بھی ہے۔ محسن کے کالم مختلف برقی اخبارات و رسائل اور ویب گاہوں پر تواتر سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ محسن نے اپنے بلاگز اور کالموں میں شجرِ ممنوعہ سمجھے جانے والے موضوعا ت پر کھل کر لکھا ہے۔ محسن کی تخلیقی جہات میں کالم نگاری اہم مقام کی حامل ہے۔ کالم لکھنے والی ایک دُنیا ہے اور اس دُنیا میں عام طور پر سارا زور سیاست پر صرف کیا جاتا ہے ۔فوج،عدلیہ،انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کی باتیں ہوتی ہیں لیکن محسن کے ہاں محبت، نفرت، سیکس ایجوکیش، مباشرت، نامردی، پدرسری نظام وغیرہ کے موضوعات پر ڈسکس ہوتے ہیں۔

محسن کے کالموں کے عنوان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بندہ ذہنی طور پر کتنا مضبوط اور نڈر ہے کہ جس موضوع پر لوگ تلوار نکال لیتے ہیں یہ اپنا آپ قربان ہونے کے لیے پیش کر رہا ہے۔ ان کےکالموں کے عنوان "کیا میں نامرد ہوں،اپنی شلوار اُتاروں، سیکس،سماج اور پورن انڈسٹری، سیکس کیسے کیا جائے، وادھ،مشت زنی کے نقصانات،لسیبین کی تحریک کے اثرات”وغیرہ ہیں۔ ایسے موضوعات پر بندکمروں میں بیٹھ کر بات کرنا عجیب لگتا ہے لیکن محسن بے باکی سے کھلے انداز میں ان موضوعات پر لکھتا ہے ۔

علاوہ ازیں میاں بیوی کے تعلقات اور والدین بہن بھائی کے باہمی تعلقات کے حوالے سے محسن نے دل دہلا دینے والے واقعات لکھے ہیں۔ والدین کی زیادیتاں اور ظلم کو سامنے لانا بڑے جگر گُردے کا کام ہے لیکن محسن نے یہ کام کیا ہے ” باپ کے نام کھلا خط،بیٹی کے نام کھلا خط،ایکس وائف کےنام کھلا خط، ٹھنڈے مرد کے نرغے میں گرم عورت، بوڑھے ٹھرکی کیوں ہوتے ہیں،گرم عورت، طلاق کیوں دی جائے”وغیرہ کالم پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اصل کالم کا حق ادا کرنا کسے کہتے ہیں۔

ہمارے اخبارات بھی بکے ہوئے ہیں اور کالم نگار بھی چبائے ہوئے نوالے چباتے ہیں اور وہی کچھ لکھتے ہیں جو انھیں کہا جاتا ہے ۔ ممنوعہ موضوعات پر لکھناور جرات سے لکھنا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں محسن کو بھی ای میل اور میسج موصول ہوئے ہیں اور ان کے بعض کالم کو شائع کرنے س ےمعذرت کی گئی ہے اس کے باوجود یہ شخص جسے حق اور درست سمجھتا ہے اُس بات ،اُصول،بیانیے اور تصور پر ضرور لکھتا ہے خواہ وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

محسن نے پی ایچ۔ ڈی کے مقالےکے لیے کلاسیکی غزل کا انتخاب کیا تھا۔محسن کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان” کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ” ہے۔ اس مقالے کی ضخامت کا اندازہ لگائے کہ 1090 صفحات پر مشتمل یہ مقالہ بتاتا ہے کہ کلاسیکی غزل کے مباحث اور اس میں مستعمل تلمیحات کا تنوع کیسا ہے۔ محسن نے پانچ کلاسیکی شاعر،میر، ناسخ،آتش،غالب اورداغ کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے ہزاروں اشعار کو پڑھا ہے پھر کلاسیکی روایت میں شعریات کا مطالعہ کیا پھر تلمیحات کو ایک ایک کرکے الگ کیا اور ہر شعر میں ایک ہی تلمیح کے مختلف استعمالات کو تحقیقی و تنقیدی انداز میں پیش کیا۔

یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی مثال اردو ادب میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔ اس مقالے کو کتابی صورت میں ورلڈ ویو پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ محسن کی سبھی تصانیف کو ورلڈ ویو پبلشرز نے شائع کیا ہے ۔علاوہ ازیں محسن نے اُردو غزل کا ارتقائی سفر کے حوالے سے ایک تنقیدی تصنیف ترتیب دی ہے جس میں تقسیم ِ ہند سے لے کر 2025 کے نوجوان شاعر احمد عبداللہ تک شعرا کا انتخاب مع تجزیاتی جائزہ پیش کیا ہے۔

محسن خالد محسن نے شاعری کے چار شعری مجموعوں "کچھ کہنا ہے، دُھند میں لپٹی شام” کے علاوہ تحقیق و تنقید میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، اُردو غزل کا ارتقائی سفر،مباحثِ فکر وفن، اُردو غزل میں تلمیحات، تلمیحاتِ میر، تلمیحات ناسخ، تلمیحات، آتش،تلمیحاتِ غالب،تلمیحاتِ داغ” تصنیف کی ہیں۔علاوہ ازیں” محاورے کا فن، تلمیح کا فن، محاورات ِ میر،محاوراتِ آتش،محاوراتِ غالب،محاوراتِ داغ” بھی تحریر کیں۔ اس کے علاوہ” جہانِ تلمیحات،اُردو غزل میں اسلامی تلمیحات، اُردو غزل میں متصوفانہ تلمیحات” بھی لکھیں ہیں۔ اس کے علاوہ ” میاں بیوی والا عشق، جون ایلیا:شخص و شاعر” ترتیب دی ہیں اور”انتخابِ شعر اقبال،انتخاب شعر غالب،انتخاب شعر جون” زیرِ تالیف ہیں۔

گزشتہ ہفتے "بچپن نگر” کے عنوان سے محسن نے بچوں کے لیے کہانوں کی کتاب بھی ترتیب دی ہے جس کا مسودہ مجھے رائے کے لیے موصول ہوا ہے۔ "بچہن نگر”میں محسن نے دیگر کہانی کار کے علاوہ اپنی کہانیاں بھی شامل کی ہیں۔ محسن ایک بیسار نویس ادیب،شاعر،محقق،نقاد اور مدون ہے۔اس کے ہاں ہر موضوع پر تحریر مل جاتی ہے۔ محسن کے جملہ کام کومیں نے ذاتی طور پر صرف دیکھا نہیں بلکہ اس تخلیق ہوتے بھی دیکھا ہے۔ محسن کی ہر آنے والی نئی کتاب کامسودہ ریویو کے لیے مجھ تک پہنچتا رہا ہے۔

محسن کی یہ خواہش تھی کہ میرے تخلیقات پر ہونے والے تحقیقی و تنقیدی کام کو میں کتابی صورت میں سامنے لاؤں تاکہ میری تخلیقی جہات کا مجموعہ قاریئن کے لیے دستیاب ہوسکے۔ راقمہ نے ذاتی مصروفیات کے بنا پر کافی دیر اس کام کو ٹالے رکھا ۔بالاآخر اب زیادہ عذر پیش کرنے سے ہچکچاہٹ کی وجہ سے اس کام کو مکمل کرنے کا سوچا تو یہ کام بھی آخر مکمل ہوا ۔میں ایک عرصہ سے یہ چاہتی تھی کہ محسن کے اس تخلیقی سفر کو روداد کی صورت لکھوں لیکن ممکن نہ ہوسکا ۔الحمد اللہ کہ وقت میسر آیا اور طبیعت نے ساتھ دیا ہے تو یہ طویل تحریر قارئین کے لیے لکھ دی تاکہ محسن کی تخلیقات پر کام کرنے والے طلبا اور محسن کی شاعری اور نثر کو پڑھنے والے قارئین کے لیے محسن کی تخلیقات کو ان کی نجی زندگی کے جملہ احوال کے تناظر میں پڑھنے کا موقع مل سکے۔

محسن خالد محسن کی تخلیقی جہات :ایک جائزہ میری پانچویں کتاب ہے جس میں محسن خالد محسن کی سوانح و شخصیت اور شاعری و دیگر تخلیقی جہات پر مختلف دوستوں ،اساتذہ اور علم و ادب کے شناورں کے مضامین شامل ہیں۔ ان مضامین کے مصنفین میں پروفیسر شہزاد مسیح ، مصباح کرن، محمد شاہد صدیق، فرحت عباس شاہ، محمودہ تانیہ اعوان، محمد اقبال شامل ہیں۔ محسن خالد محسن کی سوانح و شخصیت اور تخلیقات پر لکھے جانے والے یہ مضامین مختلف اخبارات و رسائل سے انتخاب کیے ہیں جن کا حوالہ صاحبِ مصنف کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

محسن خالد محسن کی شاعری، کالم نگاری، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے دسیوں اور مضامین موجود ہیں تاہم کتاب کی طوالت کی وجہ سے انھیں شامل نہیں کیا گیا۔ میں اُمید کرتی ہوں کہ اس طویل تعارفی تحریر سے آپ محسن خالد محسن کی سوانح و شخصیت اور شاعری و دیگر تخلیقی جہات کو سمجھنے میں سہولت محسو س کریں گے۔

میں ورلڈ ویو پبلشرز کے روحِ رواح جناب کامران احمد مقصود کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس کتاب کو شائع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ۔ اواخر میں یہی کہوں گی کہ محسن خالد محسن ایک بہتر ین اُستاد، شاعر،محقق،نقاد اور لازوال دوست ہے جسے میں نے ہر مشکل اور آسانی میں اپنے قریب محسوس کیا ہے ۔

ایک ایسا شخص جس میں کئی صفات موجود ہوں اور وہ ان صفات کو اپنے اوپر ظاہر نہ کرے بلکہ خود کو سادگی کے پردے میں چھپا کر رکھے ،یہ آسان نہیں ہے۔ محسن کے جہاں سینکڑوں چاہنے والے ہیں وہاں سینکڑوں حاسدین بھی ہوں گے۔ ہمارا کام سچائی کی شمع کو جلائے رکھنا ہے ،اندھیرے کا کام اور ہے اور ہمیں اس سے غرض نہیں۔

ڈاکٹر عظمی نورین