ملوں گا جب بھی خود سے میں نظارہ کیا بنے گا
مرے دل میں سلگتا یہ شرارہ کیا بنے گا
مجھے سرگوشیوں میں دھوپ اکثر پوچھتی ہے
دعا کا پیڑ گٹ جائے ، تمہارا کیا بنے گا
خلا کی تیرگی کا فیض ہے یہ روشنی بھی
فلک کی آنکھ سے گر کر ستارہ کیا بنے گا
ہماری ہجرتوں کی فصل یوں اگتی رہی تو
سیہ بے مہر رستوں میں ہمارا کیا بنے گا
مری آنکھوں میں گرتے ہیں کئی خوابوں کے لاشے
سخن میں ایسے غم کا استعارہ کیا بنے گا
ہزاروں زلزلے طوفاں گھروں کو گھورتے ہیں
یہ بستی میں جو گھس آئے ہمارا کیا بنے گا
کبھی ہم گننے بیٹھے زندگی کے بیش و کم جو
ہمیں معلوم ہے دل کا خسارہ کیا بنے گا
جوپہلی بار میرا نقش پورا کر نہ پایا
سراپا اس سےمیرا اب دوبارہ کیا بنے گا
سلیم فگار