مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے
محبت کی کہانی میں مرا کردار زندہ ہے

اسی کے نام سے ہر وقت میرا دل دھڑکتا ہے
میں زندہ اس لیے ہوں کہ مرا دل دار زندہ ہوں

جہاں کل ہر قدم پر مسکراہٹ رقص کرتی تھی
میں خوش ہوں آج بھی وہ رونق بازار زندہ ہے

یہاں دیکھا ہے میں نے خود سروں کو خاک میں ملتے
ترا سر جھک گیا لیکن مرا انکار زندہ ہے

مصور نے تو ساری دل کشی تصویر میں بھر دی
رہے گا فن سلامت جب تلک فن کار زندہ ہے

مری تہذیب میرے ساتھ ہے محو سفر ہر دم
مرے افکار زندہ ہیں مرا اظہار زندہ ہے

ارمؔ پر دھوپ کا احساس غالب آ نہیں سکتا
مرے سر پر ابھی تک سایۂ دیوار زندہ ہے

ارم زہرا

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔